ڈائری میں چُھپا خواب (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہ گھڑی پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ وقت صفر سے شروع ہوتا اور ہندسوں سے اٹھکیلیاں کرتا دوبارہ صفر پر آ کھڑا ہوتا۔ اس کی بے تاثر نظریں وقت کا تعاقب کرتے کرتے تھک گئیں تو اس نے گھڑی سے نظر ہٹا کر الماری کا ایک خانہ کھولا اور گزرے وقت کی ردی چھانٹنے لگا۔…
مسخرہ (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
(1) پیڈرو لوکس زندگی کی بتیس بہاریں دیکھنے کے بعد سنجیدگی سے کچھ کرنے کی سوچ رہا تھا۔ وہ فطرتاً ایک مسخرہ تھا۔ اب تک وہ اسی خداداد صلاحیت کی بدولت اپنا گزارا کر رہا تھا۔ اس کے پاس رہنے کو ایک آرام دہ گھر، عمدہ لباس غرض ہر سہولت موجود تھی۔ ان سب کی…
جملہ باز (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ اپنے دوستوں میں سب سے تیز طرار مانا جاتا تھا، شرارتوں میں۔۔ جملے کسنے میں۔۔ خاص طور پر جب بات کسی لڑکی کی ہو۔۔ اس کی، کی ہوئی شرارتیں، اس کے کَسے ہوئے جملے اس کے دوستوں میں ضرب المثل بن جایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہ خود بھی دل ہی دل سوچتا، ”واقعی۔۔۔…
تسلسل (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)
رات گئے جب وہ تصویر بغل میں دبائے میرے پاس آیا تو شہر کے بڑے چوک میں جمع لوگ تتر بتر ہو چکے تھے۔ لاش کو سولی سے اتار لیا گیا تھا اور سوگواروں کو لاٹھیاں مار مار کر بھگا دیا گیا تھا۔ میرے دروازہ کھولنے پر اس نے چاروں طرف دیکھا اور تیزی سے…
خزاں کے آنسو
ہانا اومیا چھوٹے سے بحری جہاز کے جنگلے کے پاس خوفزدہ کھڑی تھی۔ جہاز لڑکھڑاتا ہوا امریکہ کی طرف روانہ تھا۔ نومبر کے مہینے میں سمندر بھی خاصا سرد اور خوفزدہ ہوتا ہے۔ وہ سردی سے کانپ رہی تھی۔ اس نے اپنی خاص جاپانی طرز کی بنی ہوئی ریشم کی جیکٹ کو اوپر کر کے…
باپ (نارویجئن ادب سے منتخب افسانہ)
وہ موسمِ سرما کا ایک دن تھا۔ ایک آدمی شہر کے شمالی علاقے کی ایک سڑک پر جمی برف اور پگھلی ہوئی برف کے پانی میں قدم جماتا، گھروں کے نمبروں کو بغور پڑھتا آگے بڑھتا چلاجا رہا تھا۔ اس کی عمر تیس برس سے کچھ اوپر ہی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کا قد…
بیکسیِ پرواز (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
روایت ہے کہ وہ چھ تھے اور انہوں نے کئی دنوں سے سوچ بچار کے بعد بَلا کا مقابلہ کیا، جو شہر کی فصیل پر بیٹھی ہوئی تھی اور کسی کو اندر نہ آنے دیتی اور نہ کسی کو شہر سے باہر جانے دیتی۔ وہ آنے والے اور جانے والے سے ایسے سوال پوچھتی، جن…
ایک کشتی چار مسافر (ترکی ادب سے منتخب افسانہ)
عرشے پر بجھے بجھے بلب کی روشنی میں چار شخص بیٹھے تھے۔ ایک بھورے بالوں والی خاتون، ایک قصاب جس سے کچے گوشت کی بساند آ رہی تھی، ایک گنجے سر والا پروفیسر منہ میں پائپ تھامے، ایک گورا چٹا نوجوان۔۔ چاروں کے پہنچنے سے پہلے ہی آخری اسٹیمر چھوٹ چکا تھا۔ اس کشتی…