Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

تسلسل (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)

By Akhtar Rasool
نومبر 17, 2023 4 Min Read
0

رات گئے جب وہ تصویر بغل میں دبائے میرے پاس آیا تو شہر کے بڑے چوک میں جمع لوگ تتر بتر ہو چکے تھے۔ لاش کو سولی سے اتار لیا گیا تھا اور سوگواروں کو لاٹھیاں مار مار کر بھگا دیا گیا تھا۔

میرے دروازہ کھولنے پر اس نے چاروں طرف دیکھا اور تیزی سے اندر آ گیا، پھر اپنے پیچھے دروازہ بند کر کے اس نے بغل میں سے تصویر نکالی اور میرے حوالے کر دی۔ میں نے خاموشی سے اخبار میں لپٹی تصویر پکڑ لی۔ وہ بغیر کچھ کہے واپس مڑا اور دروازہ کھول کر تاریک گلی میں گم ہو گیا۔ دروازہ بند کرنے سے پہلے میں نے گلی میں جھانکا اور تیزی سے دروازہ بند کر کے کمرے میں آ گیا۔ کمرے میں کوئی جگہ ایسی نہ تھی، جہاں تصویر کو چھپایا جا سکے۔ بہت سوچنے کے بعد میں نے تصویر کو پلنگ کے گدے کے نیچے رکھ دیا اور خود صوفے پر لیٹ گیا۔

دفعتاً مجھے خیال آیا کہ تلاشی لینے والے سب سے پہلے گدے ہی کو اٹھا کر دیکھیں گے، لیکن اور کوئی جگہ تھی بھی نہیں۔ الماری میں چند کتابیں اور دو ایک آرائش کی چیزیں تھیں۔ لکھنے کی میز بھی سامنے تھی۔ کپڑوں کی الماری میں چھپانا بھی بےسود تھا، لے دے کے یہی ایک جگہ تھی۔

دیکھا جائےگا۔۔۔ میں نے خود سے کہا، لیکن دوسرے ہی لمحے جب خیال آیا کہ اگر یہ تصویر میرے پاس سے بر آمد ہو گئی تو میرا کیا حشر ہوگا، تو سارے جسم میں ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔

اس تصویر کو اپنے پاس رکھنا موت کو دعوت دینا تھا۔ کئی دنوں سے سارے شہر میں اس کی تلاش ہو رہی تھی لیکن کسی نہ کسی طرح یہ تصویر ہر رات ایک نئے گھر میں منتقل ہو جاتی اور مخبر کی اطلاع پر پڑا چھاپہ ناکام رہتا۔ شہر کے بڑے چوک میں صاحبِ تصویر کی لاش سب سے اونچے کھمبے پر علی الصبح لٹک جاتی۔ دن چڑھے وہاں سوگواروں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا۔ مسلح سپاہیوں کے دستے ہجوم پر ٹوٹ پڑتے۔ ہجوم کو ایک طرف دھکیل کر ہٹایا جاتا تو وہ دوسری طرف سے نکل آتا۔ شام تک یہی تماشا رہتا اور جب وہ کسی نہ کسی طرح ہجوم کو چیر کر لاش کو کھمبے سے اتارتے تو رات شہر پر ٹوٹ پڑتی۔ وہ لاش کو لے کر دور کہیں دفن کر آتے۔ لوگ آہ و پکار کرتے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آتے لیکن اگلی صبح جانے کیسے لاش قبر سے نکل کر سب سے اونچے کھمبے سے لٹک جاتی۔

شروع شروع میں ان کا خیال تھا کہ کوئی لاش قبر میں سے نکال لاتا ہے، اس پر انہوں نے اسے دفن کر کے قبر پر سخت پہرہ بٹھا دیا لیکن لاش پھر بھی نکل گئی اور کھمبے سے جا لٹکی۔ اس پر انہیں خیال آیا کہ یہ لاش کا نہیں اس کی تصویر کا کیا دھرا ہے۔ بس پھر کیا تھا، وہ تصویر کی تلاش میں نکل پڑے اور انہوں نے شہر کی ہر تصویر کو چیر ڈالا کہ شاید وہ ان میں کہیں چھپی ہو، لیکن اصل تصویر ان کے ہاتھ نہ لگی۔ اس کے سوگوار ہر رات تصویر کو نئے گھر میں منتقل کر دیتے اور مخبر کی اطلاع پر پڑا چھاپہ ناکام رہتا۔

فریم میں جڑی اس تصویر پر اخبار کا کاغذ لپٹا ہوا تھا، جسے موٹے دھاگے سے چاروں طرف سے اس طرح باندھ دیا گیا تھا کہ تصویر کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی تھی۔ تصویر اسی طرح لپٹی لپٹائی آتی اور اگلی رات کہیں اور چلی جاتی۔ میں نے بھی تصویر اسی طرح اٹھا کر گدے کے نیچے رکھ دی تھی اور صوفے پر لیٹا سوچ رہا تھا کہ آخر کب تک تصویر کو یوں چھپایا جاتا رہے گا۔ اچھے دنوں کی امید تو اب خاک ہوئی جا رہی تھی اور تلاش کرنے والے سدھائے ہوئے کتوں کی طرح ایک ایک انچ زمین سونگھ رہے تھے۔۔۔ ایک نہ ایک دن تو وہ تصویر تک پہنچ ہی جائیں گے اور پھر اچھے دنوں کا خواب بھی خواب بن کر رہ جائے گا۔

دفعتاً دروازہ پر دستک سی ہوئی، میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔ خوف کی ایک لہر میرے سارے وجود پر پھیل گئی۔ جلدی سے ڈیوڑھی میں آیا اور دروازے کی درزوں میں سے باہر جھانکا۔

گلی سنسان پڑی تھی اور تیز ہوا دروازوں پر دستکیں دے رہی تھی۔

میں واپس کمرے میں آ گیا۔

آخر کب تک تصویر کی حفاظت کرتے رہیں گے؟

کب تک؟

دفعتاً میرے دل میں ایک عجب سے خیال نے جنم لیا کہ ایک نظر اس تصویر کو دیکھوں تو سہی۔

یہ تصویر ہے کیسی؟

لیکن دوسرے ہی لمحے میں نے اس خیال کو جھٹک دیا۔۔۔

آج تک کسی نے بھی اس پر لپٹا کاغذ نہیں اتارا۔ یہ تصویر اسی طرح کاغذ میں لپٹی، بندھی ہوئی ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جاتی ہے۔

میں دوبارہ صوفے پر لیٹ گیا۔ لیکن بار بار کوئی اکساتا کہ ایک نظر تصویر کو دیکھوں۔ میں نے خود کو اِدھر ادھر کے خیالوں میں الجھانے کی بہت کوشش کی لیکن ہر بار کاغذ میں لپٹی تصویر میرے سامنے آ کھڑی ہوتی اور کہتی کہ مجھ پر لپٹا یہ کاغذ اتارو، آخر مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں دبے پاؤں ڈیوڑھی میں آیا۔ دروازہ بند تھا، گلی سنسان، میں خاموشی سے کمرے میں آیا۔ کانپتے ہاتھوں سے گدا اٹھا کر تصویر نکالی۔ فریم پر اخبار لپٹا ہوا تھا اور اس کے گرد موٹے دھاگے کا جال تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ دھاگہ کھولا۔ اخبار ہٹایا۔

یوں لگا جیسے میرا سارا جسم پتھرا گیا ہے۔

یہ تو میری اپنی تصویر تھی!

Tags:

bedtime storiesbest novel of imran seriesbest storiesbest urdu storieshindi storiesimran series latest novelimran series urdu storyinteresting storieslatest imran seriesmoral storiesmoral stories for kidsmoral stories in urdushort moral storiesShort Storiesshort stories for kidsshort stories in englishshort urdu storiesStoriesstories in hindistories in urduUrdu Short StoriesUrdu Storiesurdu stories for kidsUrdu Story
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

آخر نسل کشی کے حق میں پروپیگنڈا کیسے کیا جاسکتا ہے؟

Next

گرمی سے منسلک اموات 2050 تک تقریباً 400 فیصد بڑھ جائیں گی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme