اراولی مزاحمت، کارونجھر جدوجہد اور کھیرتھر پر مسلط خاموشی
جب کسی خطے میں پہاڑ خطرے میں پڑ جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں صرف قدرت نہیں، انسان بھی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ آج ہندوستان کے گجرات و راجستھان میں اراولی، سندھ کے تھر میں کارونجھر اور کراچی کے کنارے کھیرتھر اسی انجام کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ…
قانون سازی نہیں، ریتی بجری کی چوری ہی رکوا دو!
ملیر کی زرعی تہذیب کی ”رگِ جاں“ اور ”شہہ رگ“ وہ مخزنِ عظیم ہے، جس کا نام ”ریتی بجری“ ہے۔ اس عظیم الشان زرعی تہذیب کے زوال کی اصل وجہ ملیر کی ندیوں سے وسیع پیمانے پر ریتی بجری کے اخراج اور چوری کا بھیانک عمل ہے، جو اربوں روپے کا کالا کاروبار ہے۔ فطری…
قانون کی حکمرانی یا طاقت کی حکمرانی؟ 2007 سے 2025 تک ہماری جمود کی کہانی
پاکستان میں عوامی مفاد کی عدالتی لیٹیگیشن نہ ہونے کے برابر ہیں، تقریباً موجود ہی نہیں۔ آپ سو موٹو اختیارات چھین سکتے ہیں، عدالتوں کی تشکیلِ نو کر سکتے ہیں، لیکن بنیادی حقوق یا وہ قانونی بنیادیں جن پر مقدمات کھڑے ہوتے ہیں، انہیں کبھی ختم نہیں کیا جا سکا۔…
تھائی لینڈ میں چوتھے ایشیائی ماحولیاتی و انسانی حقوق محافظ فورم میں سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائنس کی نمائندگی
تھائی لینڈ کے تاریخی شہر چیانگ مائی میں ”چوتھا ایشیائی ماحولیاتی و انسانی حقوق محافظ فورم“ (4th Asia Environmental Human Rights Defenders Forum) منعقد ہوا، جس میں ایشیا بھر سے دو سو سے زائد ماحولیاتی انسانی حقوق کے محافظوں، ماہرین، اور تنظیموں نے شرکت…
ملیر اور کارپوریٹ سامراج کی نئی یلغار
اگر ملیر کی تاریخ کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ علاقہ آج بھی نوآبادیاتی کالونیل ازم کے دائرے میں سامراجی طاقتوں کی پیدا کردہ سازشی حالات سے گزر رہا ہے۔ برطانوی سامراج بظاہر تو اس سرزمین سے رخصت ہوگیا، لیکن درحقیقت اس نے اپنے دلالوں کو…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل
کراچی کے ضلع ملیر میں ”ایجوکیشن سٹی“ کے نام پر ایک نیا کمرشل تعلیمی پروجیکٹ زیرِ تکمیل ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمین کے حصول کا ایک اور باب بنتا جا رہا ہے۔ یہ…
ملیر ایجوکیشن سٹی یا کارپوریٹ کالونی
ملیر کی زمین پر سندھ حکومت کی جانب سے جو منصوبہ “ایجوکیشن سٹی” کے نام سے شروع کیا گیا ہے وہ ملیر کی زمینوں پر قبضے کی ایک نئی شکل ہے۔ یہ منصوبہ ریاستی و حکومتی اداروں اور کارپوریٹ مفادات کو ترقی اور علم جیسے خوبصورت الفاظ کے پردے میں ملیر کی زمینوں،…
سندھ حکومت کے متنازع منصوبے پر سوالات: ماحولیاتی کارکنوں کا شاہراہِ بھٹو ختم کرنے کا مطالبہ
کراچی: ملیر کے رہائشیوں، سول سوسائٹی گروپوں، ماحولیاتی کارکنوں اور وکلاء نے سندھ حکومت کے میگا روڈ پراجیکٹ "شاہراہِ بھٹو” (سابقہ ملیر ایکسپریس وے) کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ حالیہ مون سون کی بارشوں میں افتتاح شدہ راستے کے کئی حصے…