کتھا ایک پیپل کی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سارے کا سارا پیپل کا درخت کھلکھلا کر ہنس پڑا اور ہنستےہنستے اس کا قد فٹ بھر اور اونچا ہو گیا۔ پرندوں نے پیپل کی ہلتی ہوئی شاخوں پر اپنے پیر دبا لیے۔۔ اور ایک کوا کائیں کائیں کرنے لگا۔ ’’گھبراتے کیوں ہوں بھئی؟ اپنا پیپل کاکا ذرا ترنگ میں آ گیا ہے اور…
بے گور (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کلکتہ کے فائیواسٹار ہوٹل میں ایک کمرے کی گھنٹی کی آواز سن کر امریکی ڈاکٹر دروازہ کھولنے لگا۔ ’’کون؟‘‘ ’’میں رام دین ہوں صاحب۔‘‘ ’’تم آ گئے؟ آؤ میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔‘‘ ’’اگر آپ تیار ہیں تو چلیے۔‘‘ ’’ہاں چلو، کیا پورے پچاس کا انتظام ہو گیا؟‘‘…
مہاجر (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
میں فقیر حقیر تمہیں اپنے بول کیسے سمجھاؤں؟ میں تو سننے والوں کو صرف اس لیے سننے کی تلقین کرتا رہتا ہوں کہ وہی مجھے میرے بول سمجھا دیا کریں۔ ہاں، تمہارا اعتراض غیر معقول نہیں کہ کوئی اپنے ٹخنوں میں کیوں کر بود و باش اختیار کر سکتا ہے، مگر جو ہو گیا، ہوا…
بلتھزار کی شاندار دوپہر
پنجرہ تیار ہوگیا تھا۔ بلتھزار نے عادت کے مطابق اسے باہر چھت کے نیچے لٹکا دیا اور جب وہ ظہرانے سے فارغ ہوا تو پورا قصبہ اس بات پر متفق تھا کہ یہ دنیا کا سب سے خوبصورت پنجرہ ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے اتنے لوگ آئے کہ گھر کے سامنے ہجوم جمع ہو گیا۔…
ٹوبیاس مائنڈرنکل (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
گودی سے شہر کے وسط تک جاتی گلیوں میں سے ایک گلی گرے اسٹریٹ کہلاتی ہے۔ اگر آپ دریا کی طرف سے جائیں تو تقریباً درمیان میں دائیں طرف مکان نمبر سینتالیس ہے، ایک پتلی اور خاکستری عمارت، جو اپنی پڑوسی عمارتوں سے مختلف نہیں ہے۔ نچلی منزل پر ایک دکان ہے، جہاں سے…
شیلٹر ہوم میں عید منانے والی افسانہ نگار
عید کی آمد آمد تھی، لوگ اپنے اپنے طریقہ سے عید منانے کی تیاریوں میں مصروف تھے، فوٹو جرنلسٹ اور ٹی وی اینکر پرسن ربابہ میرزئی بھی اپنی عید کوریج کے سلسلہ میں شہر سے باہر ایک شیلٹر ہوم یا بوڑھے اور نادار لوگوں کی پناہ گاہ آئی ہوئی تھی۔ اس کا یہ پروگرام عید…
اُڑان (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
اور ایک دن وہ سب کام دھندے چھوڑ کر گھر سے نکل پڑی۔۔ کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا، کوئی سمبندھی بیمار نہیں تھا، کسی کا لڑکا پاس نہیں ہوا تھا، کسی عزیز کی موت نہیں ہوئی تھی، کسی کی لڑکی کی سگائی نہیں ہوئی تھی، کہیں کوئی سنت مہاتما نہیں آیا تھا، کوئی تہوار…
چَھڑی (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ جون کی ایک مرطوب اتوار تھی۔ اسٹیشن سے پار ڈپارٹمنٹل اسٹور کی پر ہجوم چھت پر سے، جو بارش کے بعد سے کاروں اور لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، میں نے اپنے دونوں بچوں کو قریب کرتے ہوئے اردگرد دیکھا۔ سیڑھیوں اور روشن دان کے درمیان خالی جگہ کو دیکھ کر میں…