جملہ باز (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ اپنے دوستوں میں سب سے تیز طرار مانا جاتا تھا، شرارتوں میں۔۔ جملے کسنے میں۔۔ خاص طور پر جب بات کسی لڑکی کی ہو۔۔ اس کی، کی ہوئی شرارتیں، اس کے کَسے ہوئے جملے اس کے دوستوں میں ضرب المثل بن جایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہ خود بھی دل ہی دل سوچتا، ”واقعی۔۔۔…
بے نیل مرام (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
آؤ ربڑ اکٹھا کرنے چلیں۔۔ یہ جملہ امازون کے کنارے سال کے چند مخصوص مہینوں میں سننے کو ملتا ہے۔ مرد کھیتی چھوڑ دیتے ہیں، عورتیں گھر کے کام کاج بھول جاتی ہیں اور لڑکیاں پھول چننا موقوف کر دیتی ہیں۔ یہ جملہ ہر ایک کی زبان پر ہوتا ہے۔ یہ جملہ ایک تیوہار، ایک…
خواب آئنے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
میں، وہ اور دوسرے سب تصویر کی نا تکمیلی کا نوحہ ہیں۔ ایسا نوحہ کہ جس کا نہ کوئی عنوان ہے، نہ موضوع۔۔ پہلی سطر سے ماتم شروع ہوتا ہے اور آخری سطر، لیکن آخری سطر تو ابھی لکھی ہی نہیں گئی، اس آخری سطر کو لکھنے کے لیے میں، وہ اور دوسرے سب کبھی…
گوئیبلز! تم کیا جانو جھوٹ کسے کہتے ہیں؟
نوٹ: برطانوی اخبار گارجیئن اور بی بی سی بنیادی طور پر برطانیہ کے دانش ور طبقے کے ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن زیرنظر تحریر میں ان ’مستند‘ سمجھے جانے والے اداروں کی جانب سے غیر محسوس انداز میں کیے گئے پروپیگنڈے کا ایک تصوراتی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ دنیا میں…
تسلسل (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)
رات گئے جب وہ تصویر بغل میں دبائے میرے پاس آیا تو شہر کے بڑے چوک میں جمع لوگ تتر بتر ہو چکے تھے۔ لاش کو سولی سے اتار لیا گیا تھا اور سوگواروں کو لاٹھیاں مار مار کر بھگا دیا گیا تھا۔ میرے دروازہ کھولنے پر اس نے چاروں طرف دیکھا اور تیزی سے…
خزاں کے آنسو
ہانا اومیا چھوٹے سے بحری جہاز کے جنگلے کے پاس خوفزدہ کھڑی تھی۔ جہاز لڑکھڑاتا ہوا امریکہ کی طرف روانہ تھا۔ نومبر کے مہینے میں سمندر بھی خاصا سرد اور خوفزدہ ہوتا ہے۔ وہ سردی سے کانپ رہی تھی۔ اس نے اپنی خاص جاپانی طرز کی بنی ہوئی ریشم کی جیکٹ کو اوپر کر کے…
بیکسیِ پرواز (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
روایت ہے کہ وہ چھ تھے اور انہوں نے کئی دنوں سے سوچ بچار کے بعد بَلا کا مقابلہ کیا، جو شہر کی فصیل پر بیٹھی ہوئی تھی اور کسی کو اندر نہ آنے دیتی اور نہ کسی کو شہر سے باہر جانے دیتی۔ وہ آنے والے اور جانے والے سے ایسے سوال پوچھتی، جن…
ایک کشتی چار مسافر (ترکی ادب سے منتخب افسانہ)
عرشے پر بجھے بجھے بلب کی روشنی میں چار شخص بیٹھے تھے۔ ایک بھورے بالوں والی خاتون، ایک قصاب جس سے کچے گوشت کی بساند آ رہی تھی، ایک گنجے سر والا پروفیسر منہ میں پائپ تھامے، ایک گورا چٹا نوجوان۔۔ چاروں کے پہنچنے سے پہلے ہی آخری اسٹیمر چھوٹ چکا تھا۔ اس کشتی…