حرفِ تسلی
لوگ ان کے پاس بیمار کو تبھی لاتے، جب وہ جاں بلب ہوتا۔ ڈاکٹر رمن اکثر غصے سے پھٹ پڑتے ”تم ایک دن پہلے کیوں نہیں آ سکتے تھے“ وجہ صاف ظاہر تھی۔ ایک تو پچیس روپے ڈاکٹر کی ملاقات کی بھاری فیس اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کوئی بھی اس حقیقت…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 4)
میں (سندھو) کون ہوں؟ ”میں یہاں سنگی کھابب پر کھڑا دریائے سندھ کو زمین کی آغوش سے جنم لیتے دیکھ رہا ہوں۔“ سیون ہیڈن دنیا میں بے شمار دریا ہیں نامور، منہ زور اور تاریخی۔۔ دریائے نیل کا ذکر اگر قرآن پاک میں ہے تو بہت سے دریاﺅں کا تذکرہ ہندوﺅں کی مقدس کتب…
قاتل (تیونس کے عربی ادب سے منتخب افسانہ)
لڑکے کی چھاتی نوجوانی کی خوبصورتی کا ایسا شاہکار تھی کہ دیکھ کر رشک آتا تھا۔ یہ سادہ سی دھاری دار قمیض کے نیچے سے اپنی مردانہ وجاہت کے کارن ہیجان انگیز تھی۔۔۔ لعنت ہے! میری نظریں کیوں اس کے سینے پر مرکوز ہیں؟ ہمیں کل سے ملے ہوئے احکامات بہت واضح تھے؛ ہم…
ہائے عوام۔۔۔۔! (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
’’یہیں پر، میں نے پینا چھوڑ دی تھی! کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ کچھ بھی مجھے اس کی طرف راغب نہیں کر سکتی۔ یہی وقت ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ تھامنا ہے۔ مجھے خود کو بحال کرنا ہے اور کام کرنا ہے۔۔۔۔ آپ خوش ہیں کہ آپ اپنی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آپ کو…
آسمان پر ایک گھڑ سوار (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
1861ع کے موسم خزاں کی ایک سنہری دوپہر، ایک سپاہی جنوبی ورجینیا کی ایک سڑک کے کنارے پتوں کے ایک ڈھیر پر لیٹا تھا۔ وہ پیٹ کے بل اوندھا یوں لیٹا ہوا تھا کہ اس کے پاؤں انگلیوں کا سہارا لیے ہوئے تھے اور اس کا سر بائیں بازو پر رکھا تھا۔ اپنے سیدھے ہاتھ…
دلدل (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
میّنْک جی لفظوں کے کاریگر تھے – بہت اچھے کاریگر – لفظوں کو گڑھتے، چھیلتے، کاٹتے، تراشتے – انہیں روپ دیتے – کئی طرح کے روپ — لفظوں سے وہ پھول کھلاتے۔قدرت کے رازوں کو بُوجھنے کی کوشش کرتے۔ ان کے لفظ غریبوں کے گھروں میں جا کر…
جُھرّیاں (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
شہر کے کاروباری علاقے کے قلب میں واقع یہ گھر ایک اونچا یک منزلہ مکان تھا، جس کو یہ فوائد حاصل تھے کہ ایک طرف تو جب مطلع صاف ہوتا شمال میں واقع پہاڑ کا تھوڑا بہت نظارہ کیا جا سکتا تھا اور دوسری طرف جنوب سے اُمسائی ہوا کے وہ جھونکے آ جاتے تھے،…
اجنبی (افسانہ)
آج کی شام ہر دوسری شام کی طرح ہی تھی اور میرا بیک یارڈ بھی ڈھلتے سورج کی سرخی میں ہر روز کی طرح ہرا بھرا نظر آ رہا تھا۔ مگر آج ہوا کے ہر جھونکے میں ایک پرانی مستی کا احساس تھا۔ آج بہت عرصہ بعد میں خود کو زندہ محسوس کر رہا تھا۔…