آخری بوند (افسانہ)
مراد بغیر بستر کے ڈھیلی ڈھالی چارپائی پر بازو کو تکیہ بنائے سونے کی ناکام کوشش میں کروٹوں پہ کروٹیں بدل رہا تھا۔ وہ نیندکو جتنا اپنی آنکھوں کے قریب لانے کی کوشش کرتا، وہ اتنا ہی دور بھاگتی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے آج وہ نیوٹن کا تیسرا قانون ثابت کرنے پر تُلی…
مامتا (افسانہ)
”کھٹ کھٹ کھٹ، کھٹ کھٹ کھٹ۔۔۔“ ٹائپ رائٹر پر انگلیاں چلاتے وقت جو ں ہی یہ آواز عمر رسیدہ قدرت اللہ خان کی سماعت سے ٹکراتی تو اسے ایک عجیب سرور محسوس ہوتا تھا۔ کئی لوگوں کے لیے یہ آواز شور ہے، لیکن اُس کے لیے یہ اطمنانِ قلب کا باعث تھی اور یہ اُس…
اب میں وہاں نہیں رہتا (افسانہ)
ڈاکیہ تین بار اس ایڈرس پر مجھے ڈھونڈنے گیا تھا لیکن تینوں بار مایوس ہو کر لوٹ آیا اس نے دروازے پر کئی بار دستک دی تھی، بلند آواز میں میرا نام پکارا تھا اور پھر دائیں بائیں دیکھ لیا تھا کہ شاید کوئی پڑوسی آواز سن کر گھر سے باہر نکل آئے اور اسے…
کُوچ کا سمے (افسانہ)
نجانے مجھے یقین کیوں نہیں آ رہا تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات تھی ۔ وہ ابھی چند لمحے پہلے میرے کمرے سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوئی تھی ۔ اس کے جانے کے بعد کمرے میں صحراؤں سے کارواں گزر جانے کے بعد والا سکوت طاری ہوگیا تھا ۔ مجھے ایسے لگا جیسے میرے…