آوازیں دفنانے کی بجائے انہیں ساتھ کیوں نہیں بٹھا سکتے ہم؟
آواز کیسی عجیب چیز ہے۔ جتنے مرضی لفظ لے آئیں آپ کسی کی آواز بتا نہیں سکتے۔ خوشبو کاپی ہو سکتی ہے، کاغذ پہ اس کا فارمولہ، اس کے نوٹس، سب کچھ لکھ کر اسے بالکل پہلے جیسا بنایا جا سکتا ہے لیکن آواز؟ آپ کے پردادا کی آواز کیسی تھی، آپ نہیں جانتے ہوں…
انتخابات میں صحافیوں کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟
انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کو ریاست کے تین ستون کہا جاتا ہے۔ آزاد میڈیا کو چوتھا ستون اس لیے گردانا جاتا ہے کیونکہ اسے ریاست کے تین ستونوں کی کارکردگی پر نظر رکھنی ہوتی ہے۔ ملک میں حالیہ انتخابات کے حوالے سے میڈیا کے کردار کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا…
سی این این کی غزہ کے حوالے سے کوریج صحافتی بددیانتی پر مبنی ہے۔ سی این این سے وابستہ صحافی
امریکی نیوز چینل سی این این سے وابستہ صحافیوں نے غزہ جنگ کے تناظر میں حقائق اور فلسطینی نقطہ نظر کو سنسر کرنے اور اسرائیلی پروپیگنڈے کو بڑھاوا دینے پر مبنی کوریج پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ امریکہ سمیت کئی دوسرے ممالک میں سی این این کے…
نگران وزیر اعظم کی خواب گاہ سے براہ راست
نوٹ: گزشتہ روز معروف صحافی محمد حنیف نے ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں بلوچوں کے لانگ مارچ پر کریک ڈاؤن اور تشدد کے خلاف بطور احتجاج ’ستارہِ امیتاز‘ واپس کردیا۔ اس حوالے سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے ستارہ امیتاز واپس کرنے کا اعلان کرتے…
بھارت میں دَلِت صحافیوں کو اپنا نیوز پلیٹ فارم تشکیل دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
بھارت کا مرکزی دھارے کا ذرائع ابلاغ بڑی حد تک ملک کے تیس کروڑ دلتوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ لیکن اب اس طبقے کے لیے وقف ایک نیوز پلیٹ فارم پر دلت صحافی اپنی کہانیوں سے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں انہی میں سے ایک مینا کوتوال بھی ہیں، جن…
ہمیں آزاد صحافت کے لیے آواز بلند کرنی ہوگی
2016ء میں گریجویٹ اسکول میں پہلے ہفتے کے دوران میڈیا ایتھکس کی کلاس تھی۔ اس میں پروفیسر چارلس ویٹیکر نے اس موضوع پر گفتگو کی کہ صحافیوں کو سوشل میڈیا کا استعمال کیسے کرنا چاہیے مثال کے طور پر ٹوئٹر پر دی گئی رائے، کیا ہم صحافیوں کی ساکھ اور معروضیت کے…
’جرنلزم فار کڈز‘: بچوں کے لیے میڈیا پلیٹ فارم چلانے والی بارہ سالہ صحافی
لاہور کی ضحواہ نور فاطمہ دو صحافیوں کی بیٹی ہیں۔ بارہ سال کی عمر میں ہی ضحواہ نے اپنا ایک ایسا پلٹ فارم متعارف کروایا ہے، جس میں وہ بچوں کے لیے صحافت کریں گی ضحواہ نور فاطمہ کہتی ہیں ”مجھے صحافت کا شوق کچھ اس طرح ہوا کہ میں نے اپنی چھٹی جماعت کے…
”نثری قصیدہ“ صحافت کی نئی صنف
ایک زمانہ تھا کہ بادشاہوں، نوابوں اور شاہی حکام کی شان میں شاعر قصیدے لکھتے اور دام و درہم وصول کرتے تھے قصیدے اب بھی لکھے جاتے ہیں، لیکن خاصے فرق کے ساتھ، کبھی یہ شعری صنف تھی، اب یہ نثری تخلیق ہے، البتہ آپ اسے ’نثری نظم‘ کہہ سکتے ہیں، تب یہ بیسیوں بلکہ…