Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Instead-of-burying-voices-why-cant-we-sit-together
کالماہم ترینتازہ ترین

آوازیں دفنانے کی بجائے انہیں ساتھ کیوں نہیں بٹھا سکتے ہم؟

By Akhtar Rasool
جون 18, 2024 5 Min Read
0

آواز کیسی عجیب چیز ہے۔ جتنے مرضی لفظ لے آئیں آپ کسی کی آواز بتا نہیں سکتے۔

خوشبو کاپی ہو سکتی ہے، کاغذ پہ اس کا فارمولہ، اس کے نوٹس، سب کچھ لکھ کر اسے بالکل پہلے جیسا بنایا جا سکتا ہے لیکن آواز؟

آپ کے پردادا کی آواز کیسی تھی، آپ نہیں جانتے ہوں گے، تصویر شاید ہو، عادتوں کا علم ہو سکتا ہے لیکن آواز ۔۔۔ اسے کوئی کیسے کاغذ پہ اتار سکتا ہے؟

آواز ریکارڈ ہو سکتی ہے، اس کی نقل بھی کی جا سکتی ہے لیکن یہ علم وہبی ہو گا، یعنی، کوئی ایک دو بندے، اپنی آواز بدلنے کی صلاحیت اور دماغ استعمال کرتے ہوئے مخصوص آوازیں کاپی کر سکتے ہوں گے۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی آواز ہوبہو نقل کر سکتی ہے لیکن آپ کسی آواز کو ڈیفائن کیسے کریں گے؟

جیسے احمد کی آواز پچاس درجے بھاری ہے، دس ڈگری کھردری ہے اور پانچ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے وہ بولتا ہے؟

میوزک کاغذ پہ اتارا جا سکتا ہے لیکن لتا کی آواز کیسی تھی اس کے لیے آپ کے پاس کیا ہے کہنے کے لیے؟

ایک دو لفظ؟ باریک آواز تھی، سریلی تھیں، پھر اس کے بعد مثالیں شروع ہو جائیں گی کہ کوئل جیسا گانا تھا، گلے میں بھگوان بولتا تھا وغیرہ وغیرہ۔

آواز میٹھی ہو سکتی ہے، بھاری ہو سکتی ہے، چڑچڑی، مہربان، پرجوش، اونچی، نحیف، کھردری، واضح، سرگوشی نما، دھیمی، بورنگ لہجے والی، تکلیف دہ، نفاست بھری، پرکشش، بناوٹی، مسحور کن، رس بھری، توانا، نخوت بھری، مغرور، باریک، پرسکون، کانپتی ہوئی۔۔۔

کتنی ہی قسموں کی ہو سکتی ہے آواز لیکن ان سارے لفظوں سے بھی آپ کو پتہ کیسے لگے گا کہ آپ کے پردادا کی آواز کیسی تھی؟ بلکہ، خود آپ کی آواز کیسی ہے، کیا تعریف ہے آپ کے پاس اپنی آواز کی؟

وائلن انسانی آواز کے قریب ترین سمجھا جانے والا ساز ہے، یعنی اس رینج کے قریب پہنچتا ہے جو انسانی گلے کے بس میں ہوتی ہے لیکن، بولتا وہ بھی نہیں، موسیقی دیتا ہے، جتنی جس کے بس میں ہے نکال لے۔

کیسی عجیب سی بات نہیں؟ ہم کتنا کچھ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے؟

پھر بھی ہمیں بولنے کا شوق ہوتا ہے، بے تحاشا زبان چلانے کا، اور اسے اچھا بھی سمجھا جاتا ہے؟

جو انسان جتنا زیادہ بولے گا، جتنے اعتماد سے بات کرے گا اتنا ہی تگڑا سمجھا جائے گا، جب کہ ہم آپ اور وہ بولنے والا بھی، خود اپنی آواز کو ڈیفائن نہیں کر سکتا۔ کوئی فارمولا نہیں سوائے بار بار خود کو سننے کے اور اندازے لگانے کے۔

اسی زبان سے متعلق ایک چیز مجھے 43 سال کی عمر میں پتہ لگی، شاید آپ میں سے بھی کئیوں کو معلوم نہ ہو۔ کھٹے، میٹھے، کڑوے، نمکین کے علاوہ ایک اور ذائقہ بھی ہوتا ہے جسے ’اُمامی‘ کہا جاتا ہے۔

ٹماٹر، اجینو موتو، سی فوڈ اور قہوے سمیت کئی عجیب سے ذائقے اُمامی کہلاتے ہیں، ایک چھٹا ذائقہ بھی دریافت کرنے میں لگے ہوئے ہیں جاپانی، سوال یہ ہے کہ جب تک مجھے پانچواں ذائقہ پتہ نہیں تھا تب تک میں کس چیز سے محروم تھا؟

یا اگر آپ آواز کو ڈیفائن نہیں کر سکتے تو اس سے آپ کی زندگی میں کیا خسارہ پیدا ہو گیا ہے؟

سیدھی سی بات ہے یہ باتیں ہماری سوچ کی سرحدوں سے باہر تھیں، اب پتہ لگ گیا، اب بھی ہم سکون میں ہیں۔

اسی طرح بہت سی چیزیں ہیں، جذبات ہیں، محسوسات ہیں، خیال ہیں، فوبیا میں بدلتے ہوئے خوف ہیں جنہیں ہم کوئی نام نہیں دے سکتے، دے سکیں تو بتا نہیں سکتے اور کہہ دیں تو سمجھا نہیں سکتے۔

لیکن یہ سب چیزیں ہم اس لیے سمجھ سکتے ہیں چونکہ یہ ہم سے متعلق ہیں۔

دوسروں کو ہم یہ سہولت کیسے دے سکتے ہیں کہ ان کی آواز، ان کے مسائل کو سمجھا جائے، ان کے محسوسات کا احترام کیا جائے، ان کی انفرادی سوچ کو عزت بخشی جائے، ان کا عقیدہ کیا ہے، وہ خود کو کیا کہلوانا چاہتے ہیں، ان کی شناخت کیا ہے؟

وہ اپنی پہچان کس حوالے سے چاہتے ہیں، وہ کیا سوچتے ہیں، کن چیزوں سے انہیں خوف آتا ہے اور پاکستان میں باہر نکلتے ہوئے انہیں کس چیز سے تکلیف ہو سکتی ہے، ان سوالوں کو کم از کم سوال کی حد تک ہی سامنے رکھا جائے؟

یا ان سب چیزوں کو ہم اُسی کیٹیگری میں کیوں نہیں ڈال سکتے کہ جہاں ہماری سمجھ کی سرحدیں ختم ہو جاتی ہیں، یا اگر ہم نہ سوچیں تو ہمیں کوئی فرق بھی نہیں پڑتا ۔۔۔۔ جیسے وہی آواز کا فارمولہ بتانا تھا یا پانچویں ذائقے کا مسئلہ تھا؟

یہاں دوسرے کون ہیں؟ آف کورس وہی سب ہیں جو موب لنچنگ (پرتشدد ہجوم میں گھرے) میں مارے جاتے ہیں، جنہیں دور سے آئی ہوئی پستول کی ایک بے نام گولی چاٹ جاتی ہے۔

جن کے لیے پاسپورٹ سے لے کر دوسرے سرکاری کاموں میں اتنے جھمیلے ہیں کہ اگر ہم آپ ان کی ٹانگ نہ بھی کھینچیں تو بھی ساری زندگی وہ انہی چیزوں سے نکلنے میں گزار دیتے ہیں۔

ہر چیز ہم سمجھ نہیں سکتے، ہماری عقل کی گنجائش محدود ہے، جو سمجھ نہیں سکتے تو اس پہ ہم کوئی فیصلہ بھی نہیں سنا سکتے، فیصلہ نہ سنائیں اور بس خاموشی اختیار کر لیں تو کیا یہ بہتر نہیں ہو گا؟

مذہب، عقیدہ، جنس کا تعین، انفرادی سوچ، بات کرنے کا طریقہ، رہن سہن کی رسمیں۔۔۔

ہم سب کی الگ الگ ہو سکتی ہیں، جب پوری دنیا میں یہ چیزیں منفرد ہو سکتی ہیں، بڑے ملکوں میں جہاں خود ہم جا کے رہنا پسند کرتے ہیں، وہاں الگ الگ ہو سکتی ہیں تو خود ہمارے یہاں کیوں نہیں ہو سکتیں؟

ایسا میں سوچتا ہوں، ایسا دو لاکھ میں سے دو ہزار سوچتے ہوں گے لیکن وہ بولتے نہیں ہیں۔

یہ بولنے کا معاملہ ہے بھی نہیں، مت بولیں، صرف سوچیں، گنجائش پیدا کریں، تب شاید ایسا ہو کہ ہمارے بچوں کو اپنے ہی جنون سے پناہ لینے کے لیے باہر ملکوں کے دھکے نہ کھانے پڑیں۔

باقی اللہ کا نام رہ جانے والا ہے!

بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

attacks on journalists in pakistancharsadda journalistcharsadda journalist youtube channelchristians in pakistanfreedom of journalism in pakistanfuture of journalism in pakistanindian in pakistanIndian Journalistjai hind in pakistanjournalims in pakistanJournalismjournalism in indiajournalism in pakistanJournalistjournalistsnaya pakistan channelnaya pakistan globalnaya pakistan internationalnaya pakistan todaynaya pakistan youtube channelnews in pakistanopium in pakistanPakistanPakistan Armypakistan newsscammers in pakistanscams in pakistanscope of journalism in pakistansenior journalist hassan nisar decide to leave pakistanshia mosque blast in pakistanspeaking hindi in pakistantaliban attack in pakistantop journalist in pakistanwomen in pakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Elimination-of-bees-from-the-world-our-death-Gloomy-predictions
Previous

دنیا سے شہد کی مکھیوں کا خاتمہ، ہماری موت۔۔۔! اندوہناک پیشنگوئیاں

TRUE-a-Fiction-Selected-from-Italian-Literature-Luigi-Pirandello
Next

سچائی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme