کہانی کار کی کہانی، کہانی کی زبانی (افسانہ)
میں کہانی ہوں۔ میں نے کتنی ہی زندگیاں تراشی ہیں، کتنے ہی خواب بُنے ہیں، کتنی ہی تقدیریں سنواری ہیں۔ میری سطروں میں محبت کے چراغ جلے، غموں کے سائے دراز ہوئے، اور بغاوت کی صدائیں گونجیں۔ میں نے ظالموں کو گرایا، مظلوموں کو اٹھایا، وقت کو پلٹا، زمین کو آسمان…
کاکڑاں کا تَیلی
’’اڑھائی روپے!‘‘ مولو نے طنز سے سر ہلا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا، ان نگاہوں سے جو گویا کہہ رہی تھیں کہ کم بخت تانگے والے کی عقل شاید گھاس چرنے چلی گئی ہے۔ ابھی مشکل سے آٹھ ساڑھے آٹھ کا وقت ہوگا، لیکن دن پہاڑ سا نکل آیا تھا۔ سورج عین سر پر…