مشاہدہ (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
لندن کے اُس ریستوان میں، جہاں میں اکثر جایا کرتا تھا، آج آٹھ جاپانی ایک میز کے گرد بیٹھے انگریزی کھانے میں مشغول تھے۔ وہ آپس میں جاپانی زبان میں گفتگو کر رہے تھے، جس کا ایک لفظ بھی سمجھنا میرے لیے ناممکن تھا، لیکن ان کے لبوں پر رقصاں دائمی مسکراہٹ اور ہر…
کہانی کار کی کہانی، کہانی کی زبانی (افسانہ)
میں کہانی ہوں۔ میں نے کتنی ہی زندگیاں تراشی ہیں، کتنے ہی خواب بُنے ہیں، کتنی ہی تقدیریں سنواری ہیں۔ میری سطروں میں محبت کے چراغ جلے، غموں کے سائے دراز ہوئے، اور بغاوت کی صدائیں گونجیں۔ میں نے ظالموں کو گرایا، مظلوموں کو اٹھایا، وقت کو پلٹا، زمین کو آسمان…
ایک ٹیلی وژن کی موت (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
پرماتما کی بے پناہ مہربانی سے آج میں ساڑھے تین منزلہ کوٹھی کا مالک ہوں۔ کبھی ایک معمولی ملازم کی حیثیت سے دبئی گیا تھا، صنعتکار اور کروڑپتی بن کر واپس آیا۔ میری کئی فیکٹریاں ہیں، گھر میں خوبصورت اور نیک بیوی ہے، لائق بچے ہیں، نوکر چاکر ہیں، دروازے پر دو…
کٹھ پتلی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
مرد کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا: ”تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟“ عورت نے پہلے اپنے بال سر کے اوپر جمع کیے، پھر انہیں اپنے شانوں پر گرا دیا اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔ اس نے پاؤڈر کا ڈبہ اٹھایا اور اپنا مخصوص پاؤڈر چہرے…
ہوشیار بُڑھیا (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
کام شروع کرنے سے پہلے اس نے اپنے تینوں ساتھیوں کو ڈنر پر بلایا۔ الزامور خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ ساتھیوں کو خوش کیے بغیر ان سے کام لینا کس قدر مشکل ہے۔ ”دوستو!“ اس نے اپنا جام اٹھایا، ”ہم لوگوں نے اپنے پلان کا ہر زاویے سے جائزہ لیا ہے، کہیں جھول نہیں…
باپ کے گھر کی چابی (بلغارین ادب سے منتخب افسانہ)
’سات بار ناپیں، ایک بار کاٹیں‘ ، ایک مشہور روسی کہاوت ہے۔ کیوں کہ اگر غلطی ہو جائے تو اس کا سدباب ممکن نہیں، دوسرے لفظوں میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ہر طرح سے سوچ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ صحیح عمل کر رہے ہیں۔۔۔ مگر لڑکے؟ کیا بے صبرے…
ملیر ایکسپریس وے سے خطرے میں پڑی لائبریری کو ثقافتی ورثے کا درجہ مل گیا۔
ملیر میں ایک لائبریری اور انسٹیٹیوٹ برائے بلوچی زبان و ادب کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر محفوظ درجہ دے دیا گیا ہے۔ ملیر ایکسپریس وے کے لیے انٹرچینج کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کو منہدم کیے جانے کا خطرہ تھا۔ تاہم سول سوسائٹی…
دکھ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
پہاڑوں سے گھرے اس گاؤں سے، جہاں ’باکو‘ رہتا تھا، بڑے شہر کا فاصلہ پچاس کلو میٹر تھا۔ باکو ایک ترکھان تھا، خراد کی مشین اس کی زندگی کا محور تھی، اسے اپنی خراد اور اپنے ہنر پر بڑا فخر تھا۔ وہ اس خراد پر لکڑی کی خوبصورت چیزیں ایسی مہارت سے بناتا کہ دور…