بیٹا سلطانی گواہ بن گیا، ماں ڈٹ گئی۔۔
آج کرکٹ کا ورلڈکپ شروع ہو رہا ہے۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں کسی بھی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔ ایسا ہی ایک دوسرا کھیل بھی ہے، جس کا نام ہے پاکستان کی سیاست۔۔ ایک طرف کئی ماہ کی گمنامی کے بعد پاکستان تحریک…
کیا آپ ڈاکٹر ہیں؟ (آمریکی ادب سے منتخب افسانہ)
فون بجنا شروع ہوا تو وہ تیزی سے، چپل، پاجامہ اور گاؤن میں ہی اسٹڈی روم سے باہر نکل آیا۔ دس بج چکے تھے، اس لیے کال اس کی بیوی کی ہی ہو سکتی تھی۔ جب وہ ٹاؤن سے کہیں باہر جاتی تھی، اسی طرح، ہر رات شراب پینے کے بعد فون کرتی تھی۔ وہ…
دو کوڑی کی عورت (تیونسی ادب سے منتخب افسانہ)
اس نے جب مجھے پہلی بار دیکھا، توصیفی نظروں سے دیکھا۔ اس نے کہا کہ میں خوش طبع اور دل کش ہوں۔ جب وہ مجھ سے ہم کلام ہوا تو کہنے لگا کہ میں ترغیب دلانے والی اور کمال کی عورت ہوں۔ جب اس نے میرا بوسہ لینے کے لیے اپنے ہاتھوں کو میرے شانوں…
سندھو گھاٹی اور اساطیری ادب! (پہلی قسط)
یہ دسمبر 1985ء کے آخری ہفتے کی ٹھنڈی رات کے ابتدائی پہر کا ذکر ہے۔ سندھ کے ساحلی گاؤں کے مغرب میں بنی سومرا دور کی درگاہ قرھیو بھنڈاری کے سالانہ میلے کے شب و روز میں، درگاہ کے شمال میں گھاس پھوس سے بنی اُس کے معتقدین کی تین دیواروں والی کئی جھونپڑیاں ہیں…
جھوٹ کی سرزمین (عبرانی ادب سے منتخب افسانہ)
رَوبی نے پہلا جھوٹ تب بولا تھا، جب وہ سات سال کا تھا۔ اس کی ماں نے اسے شِکنوں سے بھرا ایک پرانا نوٹ دیا اور اسے کہا کہ وہ کریانے والی دکان پر جائے اور اس کے لیے کنگ۔سائز ’کینٹ‘ سگریٹوں کا ایک پیکٹ لائے۔ رَوبی نے اس کی بجائے ایک آئس کریم کون…
مانگ (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
سرکاری ہسپتال کھپرو کے مردہ خانے کے سامنے لوگوں کا جمگھٹا، دھول مٹی میں لت پت بال، چوٹی اور مانگ بھی، دھول اور ہوا میں اڑ رہے تھے۔ اندر خاکروب، ڈاکٹر، مکھیوں کی بھن بھن۔ سندھ جنی، کسی کی لاج سب کا ناموس، کئی اجنبیوں کے سامنے اس کی لاش ننگی پڑی تھی۔ ٹیڑھے…
سندھ کے صحرا میں کوئی پھول کھلے۔۔۔ قرة العین حیدر اور سندھی ادب
یہ جنوری 1991 کے دن ہیں۔ قرول باغ دہلی میں قرةالعین حیدر کے فلیٹ کے دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ پانچ سات منٹ بعد فلیٹ کا دروازہ آدھا کھلتا ہے اور وہ خود دروازے پر ہوتی ہیں۔ کہتی ہیں ”فرمائیے!“ ”فرمانا کیا، آپ کے پڑھنے والے ہیں، سندھ سے آئے ہیں۔“ ”کیا کیا…
قصہ گو (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ ایک گرم سہ پہر تھی۔ریلوے ٹرین اسی حساب سے گرم تھی۔ اگلا اسٹاپ ٹیمپل کومب تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر تھا۔ مسافروں میں ایک چھوٹی لڑکی تھی، ایک اس سے بھی چھوٹی تھی اور ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ بچوں کی خالہ ایک کارنر سیٹ پر براجمان تھی۔ اس کے بالمقابل دوسری…