برطانوی دور میں ملیر کے سماجی، سیاسی اور انتظامی حالات
فاروق سرگانی کے اس بلاگ کا ویڈیو ورژن بھی دستیاب ہے، جسے آپ صفحے کے آخر میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایچ ہیوز ایک برطانوی افسر تھے، جنہوں نے سندھ اور بلوچستان کے بارے میں کئی سفرنامے تحریر کیے۔ انہوں نے سندھ کے تقریباً تمام علاقوں کا دورہ کیا اور 1876 میں…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)
وادی پاچران سے آگے بڑھتے ہوئے ہمارا سفر مول کے تاریخی شہر کی جانب جاری تھا، جہاں راستے میں مول ندی جیسی خوبصورت ندی بھی پڑتی ہے۔ مول ندی نہ صرف جامشورو بلکہ کراچی کے ملیر کی ایک وسیع اراضی کے لیے بھی بے حد اہم ہے، خاص طور پر ملیر ندی کے تناظر میں…
ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم…
سندھ حکومت کے متنازع منصوبے پر سوالات: ماحولیاتی کارکنوں کا شاہراہِ بھٹو ختم کرنے کا مطالبہ
کراچی: ملیر کے رہائشیوں، سول سوسائٹی گروپوں، ماحولیاتی کارکنوں اور وکلاء نے سندھ حکومت کے میگا روڈ پراجیکٹ "شاہراہِ بھٹو” (سابقہ ملیر ایکسپریس وے) کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ حالیہ مون سون کی بارشوں میں افتتاح شدہ راستے کے کئی حصے…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین، ماحول اور مقامی ذریعہ معاش کا محاصرہ
سندھ لینڈ یوٹیلائزیشن ڈپارٹمنٹ نے ملیر میں کراچی ایجوکیشن سٹی کے لیے مزید 2,817 ایکڑ زمین مختص کرنے کی پیش رفت کی ہے۔ اس توسیع میں وسیع زرعی رقبہ شامل ہے جس سے کراچی کی سب سے بڑی سبز پٹی کے ختم ہونے اور شہری خوراکی رسد کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔…
کیا سندھ کا بھرم ٹوٹ رہا ہے؟
سندھ، جو دنیا کے اولین تہذیبوں کی ماں، صدیوں سے جنت نظیر سرزمین کہلاتی آئی ہے، آج بےبسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ وہ سرزمین، جس کی کوکھ سے سندھو تہذیب کا جنم ہوا، جہاں سے انسانیت نے تمدن سیکھا، پہلے اسے عالمی یتیم خانہ بنایا گیا، ڈیموگرافی تبدیل کی گئی، آج…
کراچی میں ماحولیاتی توازن بمقابلہ تعمیرات: فوٹوگرافر سلمان بلوچ سے مکالمہ
کراچی کا سب سے بڑا ضلع ملیر صدیوں سے مقامی سندھی اور بلوچ قبائل کا مسکن رہا ہے، جو ایک مشترکہ زرعی معاشرے کے طور پر ماحول پر انحصار کرتے تھے۔ تاہم، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور ترقیاتی منصوبے زمین، پانی اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔…
’ملیر ایکسپریس وے کا افتتاح ہو چکا لیکن خطرات برقرار ہیں‘
حکومت سندھ نے حال ہی میں کراچی ملیر ایکسپریس وے کے ایک حصے کا افتتاح کیا ہے جسے ’شاہراہِ بھٹو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس سڑک کی لمبائی 39 کلومیٹرز ہے جو ایم نائن موٹر وے (بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے سٹی اور اس سے ملحقہ دیگر رہائشی منصوبوں) کو ڈیفنس اور اس کے…