سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط40)
پانچ دریاؤں کی سرزمین: ”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“ (بابا گرونانک) ”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط36)
”ہندو بنیاد پرست اور برطانوی دائیں بازو کی تحریک اس خیال سے متفق ہے کہ آریائی مغربی سمت سے دریائے گنگا کے ذریعے روانہ ہوئے اور دنیا پر اپنی زبان کے بل بوتے پر ہی قابض ہوئے تھے۔ ان بنیاد پرست ہندوؤں کو جب بیسویں صدی میں بھارت پر حکمرانی کا موقع ملا تو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط35)
سندھو کچھ خاموشی کے بعد داستان آگے بڑھانے لگا ہے، ”ہم پٹن سے تقریباً اڑتیس (38) کلو میٹر دور ’بشام‘ پہنچے ہیں۔ شانگلہ کا ضلعی ہیڈ کوراٹر ایک اہم تعلیمی و تجارتی مرکز ہے۔ آج کے سوات اور رگ وید کا ’اودیانہ‘۔ مقدونیہ کا سکندر بھی یہاں فوج سمیت اترا تھا۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط34)
اب ہم خوشحال خاں خٹک کی سرزمین پر ہیں۔۔ گل گنٹردہ دتورے، کہ کابک دے کہ کشمیر۔ میٹرنی دی چہ یادیگی، پہ سمندر وہم پہ دلیر۔۔ (خوشحال خاں خٹک) (فتح تلوار کی مرہونِ منت ہے چاہے کابل ہو یا کشمیر۔ فاتح اور بہادری کو لوگ یاد رکھتے ہیں۔ اپنے گیتوں میں بھی اور…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط32)
”چلاسی عورت بہت محنتی ہے، سارا دن کام کرتی ہے۔ مجال ہے کسی کے جسم پر ذرا سا بھی موٹاپا نظر آئے۔پیدل سفر، دن بھر کی مشقت، سادہ غذا سبھی موٹاپے کے دشمن ہیں۔ یہاں کی عورت صبح سویرے اٹھتی ہے۔ دودھ دوھنے سے لے کر لسی بنانے اور مکھن نکالنے تک، ناشتے سے رات…