تاریخ نہ سہی، کیلنڈر ہی سیدھا کر لو
1950 کی دہائی کے پاکستان میں 23 گزیٹڈ چھٹیاں (ہالیڈیز) ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سے دو سیکولر چھٹیاں یکم جنوری، بینک ہالیڈے تھیں۔ دس مسلم تہواروں (شبِ معراج، شبِ برات، جمعۃ الوداع، عیدالفطر، حج، عید الضحٰی، یکم محرم، عاشورہ، آخری چہارشنبہ، عیدِ میلاد النبی)…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط73)
کھانا کھانے کے بعد میں جھیل کے کنارے اکیلا ہی چلا آیا ہوں، گہری اور وسیع جھیل میں ہلکی ہلکی موجیں دھیمے سروں میں گنگناتی محسوس ہو رہی ہیں۔ کشتیاں سطح آب پر بگلوں کی طرح سر اٹھائے محو سفر ہیں، دور مچھلیاں پکڑنے والے مچھیرے اپنے جال تھامے اونچے سروں میں گا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط70)
۔۔۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو لگتا ہے مستقبل قریب میں یہاں کوئی بھی ملاح نہ رہے گا اور 200 سال پرانی یہ ثقافت بھی شاید دیکھنے کو نہ رہے گی۔ ہم روز بروز مشکل ہوتے حالات میں 200 سال پرانی اپنے بزرگوں اور سندھو کی ثقافت زندہ رکھنے کے لئے کب تک کو شاں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط56)
”تم جانتے ہو؟“ سندھو نے مجھ سے پوچھا اور حسب عادت میرا جواب سنے بغیر ہی وہ بتانے لگا؛ ”نواب صاحب نے اس جہاز کو حکومت کے حوالے کیا تو اس کا کنٹرول محکمہ شاہرات حکومت پنجاب کو ملا۔ یہ خراب ہوا تو اس کے پرزے بھی لوگ چوری کرنے لگے۔ ہمیں تو بس موقع…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط52)
اس سے پہلے کہ کوئی اور بولتا میرا دوست سندھو بول پڑا، ”بلائنڈ ڈولفن جسے سندھی ’بِلھن‘ کہتے ہیں، میرا اور اُس کا ساتھ ازل سے ہے۔ کہتے ہیں یہ مچھلی تبت سے نکلے کچھ اور دریاؤں میں بھی پائی جاتی تھی لیکن اب صرف مجھ میں اور دریائے گنگا میں ہی باقی بچی ہے۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط49)
سندھو سرگوشی میں بتا رہا ہے؛ ”بھنگی خیل کے ’بنی افغاناں‘ رقبے جو پہاڑی نالوں کی وجہ سے اکثر ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتے ہیں، بہت زیادہ محنت اور محافظت چاہتے ہیں لیکن جہاں ان نالوں اور میرا پانی مضبوط پشتے باندھ کر ہموار زمینوں پر پھیلا دیا جاتا ہے، وہاں کی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط47)
”لو میں کوہ سلیمان کے سلسلے میں پہنچ گیا ہوں۔ بارش برس جائے تو اس پہاڑی سلسلے کے ندی نالوں اور رودکوہیوں میں طغیانی آجاتی ہے، بعض تو ایسے بپھرتے ہیں کہ سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔ جب یہ طغیانی سے لدے مجھ میں اترتے ہیں تو میں بھی پرجوش ہو جاتا ہوں۔ خوب…
سندھو سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط43)
رات ہمارے گرد تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آسمان پر ابتدائی شب کا چاند، اس کی کرنیں گیندی شفق سے پھسل پھسل کر زمین پر اس طرح پھیل رہی ہیں جیسے زمین کی سطح پر کسی نرم و نازک پھول کی پنکھڑیاں بکھیری ہوں۔ ہوا کے جھونکوں کی سر سراہٹ ایسے لگ رہی ہے جیسے…