افواہ (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے کی انتظامیہ کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ جارج ولیمز کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس نے سیم بلنگز کا نام بطور خزانچی پیش کر دیا۔ حیرت کی بات یہ کہ سب لوگوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کی تائید کی اور وہ بلا مقابلہ ہی خزانچی بن گیا۔ یہ ایندروسکوگن…
ایک جوتشی کا دن (بھارتی ادب سے منتخب افسانہ)
حسبِ معمول بہت پابندی سے دوپہر کے وقت اس نے اپنا تھیلا کھولا اور اپنا پیشہ ورانہ ساز و سامان پھیلایا، جو کہ ایک درجن کوڑیوں، ایک چوکور کپڑے کے ٹکڑے، جس پر مبہم اور پراسرار زائچے بنے ہوئے تھے، ایک بیاض اور تاڑ کی چھال کی لکھی ہوئی تختیوں کے بنڈل پر مشتمل…
سرکس (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
لکڑی کے ستونوں پر رکھے ہوئے لمبے تختے پہاڑ کی طرح اوپر اٹھتے چلے گئے تھے، اور بیضوی شکل میں چاروں طرف اس طرح پھیلے ہوئے تھے کہ دیکھ کر بندہ چکرا جائے۔ لوگ ٹھسا ٹھس بھرے ہوئے تھے۔ ڈائسی نے کہا ”یوں قریب قریب بیٹھے ہیں، جیسے کتے کے کان پر جوئیں۔“ اس نے…
میرا دوست، میرا دشمن (شاہکار افسانہ)
میں نے اس دوسری ملاقات کی استدعا اس لیے کی ہے، جنرل، کہ مجھے علم ہوا ہے کہ ہمارے درمیان دس دن قبل جو گفتگو ہوئی تھی، اس کی آپ کی جانب سے بہت منصفانہ اور درست رپورٹنگ کے باوجود، میرے اعمال کی یورپین اخبارات نے بہت غلط تشریح کی اور اسے بالکل غلط سمجھا…
انتظار (انگریزی افسانہ)
وہ کمرے میں کھڑکیاں بند کرنے کے لیے آیا، جب ہم ابھی بستر میں ہی تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ بیمار نظر آ رہا تھا۔ وہ کانپ رہا تھا، اس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا اور وہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا، گویا ہر حرکت کے ساتھ اسے درد ہوتا تھا ”شاز،…
اعترافِ جرم (مراکشی افسانہ)
میں آپ کو اپنا نام نہیں بتا سکتا۔ نہ ہی وہ دیہات، جہاں اس قصے نے جنم لیا۔۔ کیونکہ وہاں میرے والد ایک عزت دار فرد ہیں، جن سے لوگ خوف زدہ رہتے ہیں۔ میں انہیں شرمسار نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اسی زرخیز زمین میں پیدا ہوئے تھے مگر انہوں نے اپنا مستقبل شہر میں…
سرخ جوتے (افسانہ)
ایک دفعہ کا ذکر ہے ، ایک چھوٹی سی لڑکی تھی، بہت نازک اور خوبصورت، لیکن انتہائی غریب۔۔ اتنی کہ اسے تمام گرمیاں ننگے پاؤں گزارنی پڑتی تھیں اور سردیوں میں اسے لکڑی کے موٹے جوتے پہننے پڑتے تھے، جو اس کی ایڑھیوں کو چھیل کر زخمی کر دیتے گاؤں میں ایک بوڑھی بیوہ…
انیتا
فرنشڈ اپارٹمنٹس کے ایک بڑے بلاک کے سب سے سستے کمرے میں میڈیکل کے تیسرے سال کا طالب علم یعنی کہ اسٹیفین کلچکوف ٹہل ٹہل کر جانفشانی سے ایناٹومی کے بارے میں پڑھ رہا تھا۔ اس جانفشانی کے مارے اس کا حلق خشک ہو رہا تھا اور پسینہ اس کی پیشانی پر چمک رہا تھا…