رضو باجی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سیتاپور میں تحصیل سدھولی اپنی جھیلوں اور شکاریوں کے لیے مشہور تھی۔ اب جھیلوں میں دھان بویا جاتا ہے۔ بندوقیں بیچ کر چکیّاں لگائی گئی ہیں، اور لائسنس پر ملے ہوئے کارتوس ’بلیک‘ کر کے شیروانیاں بنائی جاتی ہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے قصبوں کا زنجیرا پھیلا ہوا تھا،…
بادِ نو بہار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اس نے دیکھا کہ جن حویلیوں کے در دیمک کھا گئی، ان کی خستہ اینٹوں سے نئی کونپلیں جنم لے رہی تھی۔برسوں پہلے جہاں صور پھونک دیا گیا تھا، وہاں سے قلقاریوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔ بے رنگ دریچوں پر لٹکے پھٹے ہوئے پردوں کے پیچھے سے جو اداس آنکھیں جھانکتی…
جیئرن جو دڑو (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
امر کی آنکھ کھلی تو سارا جسم پسینے سے شرابور تھا– یہ کیسا خواب تھا جو کئی راتوں سے مسلسل اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ سانولی نازک سی لڑکی جیسے صنوبر کی شاخ، اس کی کلائیاں تھر کی عورتوں کی طرح سفید کڑوں سے بھری ہوتیں، کبھی کھنڈرات سے نکلتی اور پانی سے بھرے…
الیوشا گورشک (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
الیوشا اپنے خاندان کا سب سے چھوٹا لڑکا تھا۔ لوگوں نے اسے گورشک بلانا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ ایک دن اس کی ماں نے اسے ڈیکن (کلیسا کا مہتمم) کی بیوی کے لئے پانی لانے کے لئے بھیجا تو وہ پھسل کر گر گیا اور گھڑا / گورشک ٹوٹ گیا ۔ اس کی ماں…
کل اور آج (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
جنگ کا آغاز حال ہی میں ہوا تھا۔ مارینو لرنا نے رضاکارانہ طور پر افسران کے اسکول میں داخلہ لیا اور تیزی سے نصاب مکمل کر کے انفنٹری لیفٹیننٹ کے درجے پر فائز ہوا۔ اپنے کنبے کے ہمراہ آٹھ دن کی تعطیلات گزارنے کے بعد وہ اپنے یونٹ کیسیل بریگیڈ کی بارہویں رجمنٹ…
چَھڑی (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ جون کی ایک مرطوب اتوار تھی۔ اسٹیشن سے پار ڈپارٹمنٹل اسٹور کی پر ہجوم چھت پر سے، جو بارش کے بعد سے کاروں اور لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، میں نے اپنے دونوں بچوں کو قریب کرتے ہوئے اردگرد دیکھا۔ سیڑھیوں اور روشن دان کے درمیان خالی جگہ کو دیکھ کر میں…
آشنائے مرگ (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
لڑکا جن کھنڈروں کے پاس کھڑا تھا، وہ کبھی مرکزی بازار تھا۔ کچھ افراد انہی تباہ حال دکانوں کے ملبے پر عارضی دکانیں بنانے میں مصروف تھےاور وہ ان کو محویت سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے والد نے اسے کہا تھا کہ ’’جاؤ اسے مرکزی بازار میں تلاش کرو۔ ہمیں کل لازماً انہیں…
ایک ہی کوکھ (موزمبیقی ادب سے منتخب افسانہ)
ان دنوں میرے دادا مجھے ساتھ لیے دریا کی جانب چل پڑتے اور اپنی چھوٹی سی کشتی، جسے وہ کونچو کہتے تھے، میں مجھے بھی بٹھا لیتے۔ وہ بہت آہستگی سے چپو چلاتے، چپو شاید ہی لہروں سے ٹکراتے، مجھے تو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ پانی کے اوپر ہی انہیں حرکت دے رہے ہیں۔…