شرط (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ماسکو کی اونچی سوسائٹی کی پارٹی عروج پر تھی۔ میزبان ایک بینک کا مالک تھا۔ مہمانوں میں جرنیلوں، سیاست دانوں اور اعلٰی افسروں کے علاوہ ایک نوجوان وکیل بھی شامل تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ گفتگو نہ جانے کیسے سزائے موت اور عمر قید کی قانونی باریکیوں پر پہنچ…
کنجوس جواری (افسانہ)
اس بات کا حتمی اندازہ لگانا تو شاید ممکن نہیں کہ کریم بخش کو کنجوسی کی عادت کب سے پڑی تھی، دراصل بخیلی کی اپنی ایک دنیا ہے جس میں آدمی ایک بار داخل ہو جائے تو باہر نکلنا ممکن نہیں رہتا، پھر چاہے ساری دنیا اس آدمی کو بُرا بھلا کہتی رہے۔ کریم بخش…
ایک مرتی جھیل کا دکھ (افسانہ)
میں ایک جھیل ہوں، جس نے اپنی گہرائیوں میں زمانوں کا عکس محفوظ کر رکھا ہے۔ میرے کناروں پر زندگی کے کئی رنگ کھلے، کئی مناظر بنے اور بکھرے، مگر آج میں تیزی سے خشک ہو رہی ہوں، جیسے مرنے کے قریب ایک بوڑھا جسم اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو۔ میں زمانوں سے قائم،…
اداکار کی موت (منتخب افسانہ)
شیانوف ایک لحیم شحیم اداکار تھا۔ اداکاری کے فن میں نہ سہی اپنی جناتی ضخامت کی وجہ سے تھیٹر میں خاصا کامیاب بھی تھا اور سادہ لوح طبیعت کے باعث مقبول بھی۔ دوسرے اداکار اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے۔ کوئی اس کو گینڈا کہتا۔ کوئی سرکاری سانڈ۔۔ لیکن سب اسے پیار…
پندرہویں سواری (منتخب اردو افسانہ)
ان لاکھوں بھاگتی دوڑتی گاڑیوں میں ایک چودہ مسافروں کے لیے بنی گاڑی میں وہ پندرہویں سواری تھا، جو اکڑوں ہو کر بیٹھا تھا۔ ’تو کیا میں یہاں اتر جاؤں؟‘ اس نے سوچا۔ ’لیکن اگر میں اتر گیا تو پھر مجھے گھنٹوں انتظار کرنا پڑے گا۔‘ اسے محسوس ہوا کہ اس کی سانس رُک…
حسنِ کامل
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی تھا، جس نے محبت کی شادی کی مگر فرصت کے اوقات میں وہ پچھتاتا رہتا تھا۔ وہ پیشےکے لحاظ سے ایک کھلونا ساز تھا، اور بے عیب کام کے لیے اس کا جنون پوری دنیا میں مشہور تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس نے ایک میکانکی پرندہ…
حسنِ خوابیدہ کے سنگ پرواز
وہ خوب صورت اور نازک تھی۔ ملائم گندمی رنگت، سبز بادامی آنکھیں اور کاندھوں کو چھوتے کالے بال۔ اس کے گرد قدامت کا ایسا ہالہ تھا جو انڈونیشی بھی ہو سکتا تھا اور اینڈیز کا بھی۔ اس کے لباس میں بھی نفاست اور نازکی تھی۔ جنگلی بلی کی سُمور والی جیکٹ، راسلک کا…
قربانی (منتخب افسانہ)
خواہشات بغیر دستک دیے آدمی کے دل میں گھر کر جاتی ہیں اور جب تک وہ غور کرتا ہے تو یہ خواہشات اندر تک سرائیت کر چکی ہوتی ہے۔ اس آدمی کے اندر بھی خواہشوں کا جال پھیل رہا تھا لیکن اس کی تنخواہ محض 35 ہزار روپے تھی۔ وہ جب اپنی یا اپنے اردگرد…