کھنڈر سے برآمد ہوئی اک کہانی (افسانہ)
کہتے ہیں کہ ایک وادی تھی، جو دو گاؤں کے بیچوں بیچ پھیلی ہوئی تھی۔ یہ گاؤں اپنی زمین کی زرخیزی، اپنی قدیم روایات اور ایک دوسرے سے نفرت کے لیے مشہور تھے۔ پہلا گاؤں ’کھیت گاؤں‘ اور دوسرا ’جبل گاؤں‘ کہلاتا تھا۔ دونوں کے درمیان ایک سرسبز میدان تھا، جو کبھی ان…
کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔۔ (افسانہ)
شہر کا آسمان سرمئی تھا، جیسے حقیقت اور فریب کے درمیان کشمکش جاری ہو۔ لوگ سڑکوں پر چلتے، اپنی دنیا میں مگن تھے، لیکن ان کی نظروں میں ایک عجیب سا خالی پن تھا۔ اس شہر کا ہر کونہ محرومی کی ایک داستان سنا رہا تھا، لیکن وہ داستانیں کہیں دفن تھیں، حکومت کے…
جوتے (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
مرکن نامی ایک پیانو کے سر ملانے والا، تازہ منڈے ہوئے زرد چہرے، ناک پر نسوار کا داغ اور کانوں میں روئی ٹھونسے، ہوٹل کے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا اور کپکپاتی آواز میں چلایا: ”خادم! سیمیون۔۔۔!“ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر شاید آپ سمجھتے کہ اس پر چھت…
یک طرفہ شادی (چینی ادب سے منتخب افسانہ)
قریب الختم خزاں کی ایک دوپہر سے ذرا پہلے، آسمان پر دھواں دھواں بادلوں کی اڑتی ٹکڑیاں دھوپ کے راستے سے ہٹیں تو گلیا،ں جنہیں ہوا صاف کر چکی تھی، چمکنے لگیں۔ عورتیں اور بچے اپنے اپنے دروازوں کے باہر کھڑے، خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ہوا اپنے ساتھ ترم کی صدا لے…
ہوشیار بُڑھیا (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
کام شروع کرنے سے پہلے اس نے اپنے تینوں ساتھیوں کو ڈنر پر بلایا۔ الزامور خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ ساتھیوں کو خوش کیے بغیر ان سے کام لینا کس قدر مشکل ہے۔ ”دوستو!“ اس نے اپنا جام اٹھایا، ”ہم لوگوں نے اپنے پلان کا ہر زاویے سے جائزہ لیا ہے، کہیں جھول نہیں…
چھوٹی اداکارہ بڑی کہانی (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
کلے پول میں پندرہ ہزار لوگ رہتے تھے لیکن ان میں صرف ایک اداکارہ تھی، جس کی زنانہ ٹوپیوں کی دکان تھی۔ میرا نام سپارک ہے، میری گھڑیوں اور جیولری کی دکان مِس پوریٹس کی دکان کے سامنے پندرہ سال سے ہے۔ اس تمام عرصے میں وہ مجھ سے کبھی نہیں بولی اور میرا نہیں…
دستک (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
آسمان پر سویرے ہی سے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، ہوائیں تھمی ہوئی تھیں اور یہ قدرے سرد اور بے رونق دن انہی کہریلے دنوں میں سے ایک تھا جب بہت دیر سے بہت نیچائی پر معلق بادلوں کو دیکھ کے خیال ہوتا ہے کہ بارش بس اب ہونے ہی کو ہے، پر ہوتی نہیں۔…
کتھا ایک پیپل کی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سارے کا سارا پیپل کا درخت کھلکھلا کر ہنس پڑا اور ہنستےہنستے اس کا قد فٹ بھر اور اونچا ہو گیا۔ پرندوں نے پیپل کی ہلتی ہوئی شاخوں پر اپنے پیر دبا لیے۔۔ اور ایک کوا کائیں کائیں کرنے لگا۔ ’’گھبراتے کیوں ہوں بھئی؟ اپنا پیپل کاکا ذرا ترنگ میں آ گیا ہے اور…