کٹھ پتلی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
مرد کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا: ”تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟“ عورت نے پہلے اپنے بال سر کے اوپر جمع کیے، پھر انہیں اپنے شانوں پر گرا دیا اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔ اس نے پاؤڈر کا ڈبہ اٹھایا اور اپنا مخصوص پاؤڈر چہرے…
زمیں زادے (افسانہ)
رات کی سیاہی اپنی چادر پھیلا چکی تھی اور چہار سو مہیب خاموشی کا راج تھا۔ ریڈ انڈین قبیلے کا ایک بوڑھا شخص ایلان، قدیم جنگل کے کنارے اداس بیٹھا تھا، جہاں کبھی اس کا قبیلہ آزاد گھومتا تھا۔ یہ جنگل اب جدید دنیا کے تیز رفتار قدموں کے نیچے دب چکا تھا۔ یہاں کی…
کتھا ایک پیپل کی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سارے کا سارا پیپل کا درخت کھلکھلا کر ہنس پڑا اور ہنستےہنستے اس کا قد فٹ بھر اور اونچا ہو گیا۔ پرندوں نے پیپل کی ہلتی ہوئی شاخوں پر اپنے پیر دبا لیے۔۔ اور ایک کوا کائیں کائیں کرنے لگا۔ ’’گھبراتے کیوں ہوں بھئی؟ اپنا پیپل کاکا ذرا ترنگ میں آ گیا ہے اور…
بے گور (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کلکتہ کے فائیواسٹار ہوٹل میں ایک کمرے کی گھنٹی کی آواز سن کر امریکی ڈاکٹر دروازہ کھولنے لگا۔ ’’کون؟‘‘ ’’میں رام دین ہوں صاحب۔‘‘ ’’تم آ گئے؟ آؤ میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔‘‘ ’’اگر آپ تیار ہیں تو چلیے۔‘‘ ’’ہاں چلو، کیا پورے پچاس کا انتظام ہو گیا؟‘‘…
مہاجر (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
میں فقیر حقیر تمہیں اپنے بول کیسے سمجھاؤں؟ میں تو سننے والوں کو صرف اس لیے سننے کی تلقین کرتا رہتا ہوں کہ وہی مجھے میرے بول سمجھا دیا کریں۔ ہاں، تمہارا اعتراض غیر معقول نہیں کہ کوئی اپنے ٹخنوں میں کیوں کر بود و باش اختیار کر سکتا ہے، مگر جو ہو گیا، ہوا…
سفاک ماں (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
میں پندرہ سال بعد موسم خزاں میں شکار کھیلنے کے لیے ’ویر لون‘ (فرانس کا ایک قصبہ) واپس آیا۔ اپنے دوست سرول کے ہاں قیام کیا۔ اس نے اپنی گاؤں والی حویلی، جسے پروشیائی تباہ کر گئے تھے، دوبارہ تعمیر کرلی تھی۔ میں اس علاقے کا دلدادہ تھا۔دنیا میں کچھ جگہیں ایسی…
چوکیدار کی بیوی
کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔ یہ موسمِ گرما کا شدید ترین اور بلند ترین سطح کا ریکارڈ درجۂ حرارت تھا۔ انیتا سورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی، کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔…
علیحدگی (چینی ادب سے منتخب افسانہ)
کسی کے بہت بڑے ہاتھ نے مجھے درد کے اذیت ناک جال سے کھینچ کر باہر نکالا اور فضا میں میری پہلی چیخ بلند ہوئی۔ پھر کسی نے مجھے اپنی ہتھیلی پر اٹھا لیا اور سفید بستر پر دراز عورت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”مبارک ہو! بیٹا ہوا ہے۔“ تب اس نے مجھے ایک…