اسکرپٹ (افسانہ)
کھیل انتہائی جذباتی دور میں داخل ہو گیا تھا۔ تماشائی دَم سادھے اپنی اپنی نشستوں پر جمے ہوئے تھے کہ اچانک ایک اداکار اپنی جگہ سے ہٹ کر درمیان میں آ گیا اور ہیجانی کیفیت میں لرزتی آواز میں چیخا: ”میں اپنی مرضی سے کھیل چلاؤں گا اور اپنی پسند کے مکالمے بولوں…
م سے مرد (افسانہ)
”ف سے فوارہ، ق سے قلم، ل سے لٹو، م سے مرد۔۔۔“ بانو کی نظریں قاعدے میں بنے مرد کے اوپر ٹک گئیں۔۔ سوٹ پہنے، ٹائی لگائے، سلیقے سے جمے ہوئے بال بنائے، م سے مرد۔۔۔۔ اس کی زبان بار بار ’م سے مرد‘ کی گردان کرتی رہی۔ ”بانو بیٹا، آگے سبق یاد نہیں ہے؟“…