دیکھو دیکھو کون آیا، ڈار آیا ڈار آیا
مالیاتی ٹائم بم ٹک ٹک کر رہا ہے۔۔ جب خزانے میں پڑے ڈالر کئی مہینوں سے ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر کے درمیان جھول رہے ہوں اور آئی ایم ایف بھی شرائط کی گرم ریت پر دوڑا دوڑا کے ہنپا رہا ہو اور دسمبر تک بیرونی قرض خواہوں کو ساڑھے چار ارب ڈالر سود…
جو جاگ رہا ہے، بھاگ رہا ہے
شاید ہی کوئی ہفتہ جاتا ہو جب خبر نہ آتی ہو کہ ترکی یا لیبیا کی سمت سے بحیرۂ روم کے دوسری جانب یونان یا اٹلی جاتے ہوئے غیر قانونی تارکینِ وطن کی ایک اور کشتی ڈوب گئی اور اس میں اتنے افغان، افریقی اور پاکستانی سوار تھے بحیرۂ روم اس وقت دنیا کا سب…
آئی ایم ایف اور بھرا ہوا سگریٹ
گزشتہ ہفتے جو سالانہ وفاقی بجٹ پیش کیا گیا، اس میں یکم جولائی سے کم سے کم ماہانہ تنخواہ پچیس ہزار روپے سے بڑھا کے بتیس ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی اکثریت کے لیے پنشن کی کم ازکم حد ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کے دس ہزار روپے…
حضور بیٹھیں گے کہ لیٹیں گے؟
کون کہتا ہے حالات پہلے سے بدتر ہیں۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ ہرگز ہرگز اس ملک کے خیرخواہ نہیں۔ جب انہیں معلوم ہی نہیں کہ پہلے کیسے حالات تھے تو پھر وہ کیونکر ایک باخبر اور متوازن رائے قائم کر سکتے ہیں خود کو باشعور سمجھنے والے یہ مٹھی بھر لوگ دراصل…
جب تک چل رہی ہے، چل رہی ہے
ولی عہد عباس خان عباسی نے نواب آف بہاولپور صادق خان پنجم کی زندگی کے آخری دنوں میں پوچھا کہ بابا سائیں کوئی نصیحت جو آگے چل کے میرے کام آئے؟ نواب ضادق خان پنجم نے فرمایا، ”اس شخص سے ہمیشہ ڈرتے رہنا، جو تمہارے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کے ملے۔“ میں نے ایک اور…
پاکستان تحریک انصاف (حقیقی) کی تشکیل کا اعلان، چیئرمین راؤ یاسر
ملتان میں بدھ کو پاکستان تحریک انصاف حقیقی کے قیام کا اعلان کر دیا گیا، جس کے چیئرمین راؤ یاسر ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی 9 مئی کو گرفتاری کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں ملوث…
مُنے اور اُن کے ابّا
یادش بخیر! منو بھائی نے ادبِ لطیف میں اس اصطلاح کو تبدیل کرنے کا معرکہ سر کیا۔ منو بھائی سے پہلے یہ اصطلاح بھاگوان خواتین استعمال کیا کرتی تھیں۔ میرے ایک کلاس میٹ اور اُن کے بھائیوں نے پاکستان میں جدید ریستوران کی چَین بنائی۔ میرے کلاس فیلو چند سال یہ…
ہم طوطا فال نکالنے والی ریاست بن چکے ہیں؟
جب حالات بے قابو ہو جائیں اور بظاہر کوئی بھی انہیں سدھارنے کے قابل نہ رہے تو خود کو تسلی دینے اور نااہلی چھپانے کے لیے یا تو ’شان دار ماضی‘ کی داستانیں کام آتی ہیں یا پھر اردگرد کی ہم سے بھی گئی گذری مثالیں مثلاً سردار موچی سے لے کے محلے کی مسجد…