مریضِ پاکستان اور اس کا قابل معالج
چلیئے یہ بھی ہو گیا۔۔ 2014 کے دھرنے سے اب تک کی اکھاڑ پچھاڑ، تجربات، ناکامیوں، چار وزراِ اعظم اور تین حکومتیں بدلنے کے بعد، وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں کہ ’مڑ گڑ کے کھوتی بوہڑ تھلے‘ یعنی، گھوم پھر کے سسٹم کی گدھی اسی برگد تلے دوبارہ آن کھڑی ہوئی۔ یہ سب…
حضور بیٹھیں گے کہ لیٹیں گے؟
کون کہتا ہے حالات پہلے سے بدتر ہیں۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ ہرگز ہرگز اس ملک کے خیرخواہ نہیں۔ جب انہیں معلوم ہی نہیں کہ پہلے کیسے حالات تھے تو پھر وہ کیونکر ایک باخبر اور متوازن رائے قائم کر سکتے ہیں خود کو باشعور سمجھنے والے یہ مٹھی بھر لوگ دراصل…
جب تک چل رہی ہے، چل رہی ہے
ولی عہد عباس خان عباسی نے نواب آف بہاولپور صادق خان پنجم کی زندگی کے آخری دنوں میں پوچھا کہ بابا سائیں کوئی نصیحت جو آگے چل کے میرے کام آئے؟ نواب ضادق خان پنجم نے فرمایا، ”اس شخص سے ہمیشہ ڈرتے رہنا، جو تمہارے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کے ملے۔“ میں نے ایک اور…
نہ انجن کی خوبی، نہ کمالِ ڈرائیور
کیا اچھا منظر ہے۔ آئین کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر خود آئین مارے خوشی کے جھومنے کے خوف سے کپکپا رہا ہے۔ ریاست جن چار ستونوں پر کھڑی ہے، وہ ستون آئین کا بوجھ نہیں سہار پا رہے۔ ہر ستون سے فرانسیسی شہنشاہ لوئی چہاردہم کا بھوت چمٹ چکا ہے۔ ہر ستون سے آواز…
تم نہیں یا ہم نہیں۔۔ پاکستانی سیاست پوائنٹ آف نو ریٹرن پر!
وفاقی وزیر داخلہ اور نون لیگی رہنما رانا ثناءاللہ نے حال ہی میں کچھ ایسے بیانات دیے ہیں، جنہیں پاکستان تحریک انصاف دھمکیوں سے تعبیر کرتی ہے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا ”اب یا تو وہ (عمران خان) رہیں گے یا ہم، اگر ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہو رہی…
ایسٹ انڈیا کمپنی پاکستان لمیٹڈ
کیا کمال تصویر ابھر رہی ہے۔۔ کل جو نون لیگ عمران خان اور ان کی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کا بغل بچہ کہتی تھی، آج اسی نون لیگ نے وہی تمغہ چکلے سینے پر سلوا لیا ہے پیپلز پارٹی جو کل تک اینٹی اسٹیٹس-کو جماعت ہونے کا تاثر بیچ سکتی تھی، آج وہی پیپلز پارٹی اسٹیٹس-کو…
ہم تم اک کمرے میں بند ہوں
اس وقت پاکستان کی سماجی، انتظامی، سیاسی و اقتصادی تصویر کچھ یوں ہے ’ہم تم اک کمرے میں بند ہوں اور چابی کھو جائے۔‘ حکمران پی ڈی ایم ہو کہ تحریکِ انصاف، دونوں ایک نکتے پر متفق ہیں ’اب یا کبھی نہیں، ایسے حکومت کرو جیسے یہ تمہاری آخری حکومت ہو، ایسے ٹانگیں…
گونگلو اور ہمارے لال بھجکڑ
’’گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنا‘‘ پنجاب کے بارہ کروڑ لوگوں کو اس کا مطلب سمجھانے کی ضرورت نہیں اور بقیہ جن دس کروڑ پاکستانیوں کو اس محاورے کا پس منظر نہیں معلوم، وہ ان بارہ کروڑ سے پوچھ لیں، جنہیں معلوم ہے۔ ورنہ کسی بھی ریاستی عمل دار سے جان لیں، جو پچھتر برس…