Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

ایسٹ انڈیا کمپنی پاکستان لمیٹڈ

By Akhtar Rasool
مارچ 27, 2023 5 Min Read
0

کیا کمال تصویر ابھر رہی ہے۔۔

کل جو نون لیگ عمران خان اور ان کی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کا بغل بچہ کہتی تھی، آج اسی نون لیگ نے وہی تمغہ چکلے سینے پر سلوا لیا ہے

پیپلز پارٹی جو کل تک اینٹی اسٹیٹس-کو جماعت ہونے کا تاثر بیچ سکتی تھی، آج وہی پیپلز پارٹی اسٹیٹس-کو کی بی ٹیم نظر آ رہی ہے اور کل تک جو تحریکِ انصاف نیم عسکری جمہوریت کی پاپوش بردار تھی، آج وہ ضیا دور کے جیالا کلچر کی فوٹو کاپی لگ رہی ہے

کل تک نواز شریف ’مجھے کیوں نکالا‘ کی جو تبسیح گھما رہے تھے، وہی تسبیح آج عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ کل تک ’ووٹ کو عزت دو‘ کے جملہ حقوق نواز شریف کے پاس تھے

نون لیگ اور ہم نواؤں کا مطالبہ تھا کہ نجات کا ایک ہی راستہ ہے جلد انتخابات۔ جبکہ عمران خانی کابینائی آرکسٹرا یک سُر تھا کہ انتخابات تو مقررہ آئینی وقت پر ہی ہوں گے

تاش کی گڈی وہی پرانی ہے۔ بس بانٹنے والے نے پتے بدل دیے۔ جو کل تک فوری انتخابات مانگ رہے تھے، آج ترازو کے پلڑے برابر نہ ہونے تک پولنگ کرانے کے موڈ میں نہیں اور جو کل تک اپنی پنج سالہ مدت کے اختتام سے پہلے کسی صورت انتخابات کے لیے راضی نہ تھے، آج وہی پارٹی پرسوں شام تک انتخابات چاہتی ہے

نوے روز کی آئینی مدت میں انتخابات کے منکرِ اول ضیاءالحق کی روح کو اب کہیں چھیالیس برس بعد جا کے مکتی ملی ہوگی

کل تک جو پی ڈی ایم عمران خان پر آئین شکنی کا الزام دھر رہی تھی، آج وہی الزام پی ڈی ایم کی پیشانی پر چمک رہا ہے۔ یہی وہ اتحادی جماعتیں ہیں، جن کے پرکھے باوردی آئین شکنی کے خلاف جدوجہد کرتے کرتے خرچ ہو گئے

اب کہیں جا کے ایوب، ضیاء اور پرویز نے قبر میں سکھ کا سانس لیا ہوگا

کہنے کو آج بھی پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت ہے۔ مگر قومی اسمبلی کو عمران خان نے کتر لیا

آج جو قائدِ حزبِ اختلاف ہے، اس سے زیادہ معروف اور بااختیار تو شمالی کوریا کی پارلیمان کا لیڈر آف دی اپوزیشن ہے

فائدہ البتہ یہ ہے کہ ان دنوں وہ وہ قانونی بل بھی آرام سے منظور ہو رہے ہیں، جو کسی صحتمند مکمل قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش ہوتے، تو پیش کاروں کے دانتوں تلے پسینہ آ جاتا

کل تک پی ڈی ایم کے گرگانِ باران دیدہ طعنہ زن تھے کہ فوجی قیادت نے دو ہزار اٹھارہ کے آپریشن آر ٹی ایس کے ذریعے جس لونڈیہار پارٹی کو سرکار تھمائی، اس نے معیشت سے وہ کھلواڑ کیا کہ عام آدمی کی کمر ٹوٹ گئی اور اسے اقتدار میں لانے والے بھی بغلیں جھانکنے لگے

آج معیشت کی رکاب پر انہی آزمودہ سیاست بازوں کا پاؤں ہے اور لونڈیہار پارٹی چیلنج کر رہی ہے کہ کم از کم ہمارے دور میں ہزاروں برقع پوش خواتین اور سفید داڑھیوں والے مرد ایک زرعی ملک میں پانچ کلو مفت آٹے کی ایک بوری حاصل کرنے کی دوڑ میں محروم ہجوم کے پاؤں تلے کچلے تو نہیں جا رہے تھے

غیر نوبیل ماہرِ معیشت اسحاق ڈار نے پچھلے چھ ماہ سے جنتا کو آئی ایم ایف کے ممکنہ قرضے کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے اور آئی ایم ایف نے ریاستِ پاکستان کو اسی کام پر لگا رکھا ہے

مگر آئی ایم ایف سے قرضے کی قسط ملنے میں ناکامی کو بھی کام میں لانے کا فن کوئی موجودہ لال بھجکڑوں سے سیکھے۔

توجہ بٹانے کے لیے پہلے یہ شوشا چھوڑا گیا کہ قسط نہ ملنے کا ایک سبب شاید جوہری پروگرام پر سودے بازی کے لیے دباؤ ہے

جب آئی ایم ایف نے اعلانیہ تردید کر دی کہ ہمارا یہ کام نہیں کہ ملکوں کے جوہری منصوبوں پر نظر رکھتے پھریں۔ تب بادلِ نخواستہ بھائی اسحاق کو بھی کہنا پڑا کہ قرضے میں تاخیر کا سبب جوہری پروگرام پر دباؤ نہیں ہے

پھر اسی آئی ایم ایف کا بھوت دکھا کے الیکشن کمیشن کو تاثر دیا گیا کہ دو صوبائی انتخابات فوری طور پر کرانے کے لیے حکومت کے پاس پیسہ نہیں کیونکہ آئی ایم ایف نے مالیاتی خسارہ کم کرنے کی شرائط سے ہمارے ہاتھ باندھ رکھے ہیں

جب آئی ایم ایف سے اس بابت ایک صحافی نے استفسار کیا تو ادارے کی کنٹری ڈائریکٹر کو کھل کے کہنا پڑا کہ آئی ایم ایف کسی بھی ملک کو اپنی آئینی و جمہوری ذمہ داریاں نبھانے سے کبھی نہیں روکتا

اس کے باوجود بھولے بھالے الیکشن کمیشن نے اپنے ہی اعلان کردہ صوبائی انتخابات کی تاریخ بظاہر اپنی مرضی سے آٹھ اکتوبر کر دی

تاویل یہ ہے کہ نوے روز یا مقررہ آئینی مدت کے آس پاس انتخابات کروانے کے اعلٰی عدالتی حکم کے باوجود مرکزی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان اور معیشت کی دگرگوں صورت کے سبب الیکشن بجٹ اور سیکورٹی فراہم کرنے سے قاصر ہیں

گویا آٹھ اکتوبر تک معیشت بھی بہتر ہو جائے گی، دہشت گردی بھی قابو کر لی جائے گی۔ کیا موجودہ حالات میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس سے بہتر خوش خبری ممکن ہے؟

کچھ عرصے پہلے تک میرا خیال تھا کہ فسطائی یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ اب لگتا ہے کہ فسطائیت نظریہ سے زیادہ کیفیت کا نام ہے، جو کسی بھی بھلے چنگے دکھائی دینے والے جمہوریت نواز پر طاری ہو سکتی ہے اور اتنی گہری طاری ہو سکتی ہے کہ کل کا فسطائی مدِ مقابل آج جمہوریت کا چیمپیئن دکھائی دے

اس ملک کا واحد سچ یہ ہے کہ یہ بن گیا۔ تب سے مکین یا تو مسلسل ’بنائے‘ جا رہے ہیں یا خود ’بن‘ رہے ہیں

باجوہ سر جاتے جاتے اس اندرونی فیصلے کی خوش خبری دے گئے کہ کم از کم اگلے پندرہ بیس برس تک سیاست میں عسکری مداخلت نہیں ہوگی

باجوہ سر کی رخصتی کے بعد سے رجواڑی معاملات میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی عدم مداخلت اور غیر جانبداری کا دور بے طرح یاد آ رہا ہے

ویسے بھی دو سو برس میں ڈی این اے بدل تھوڑی جاتا ہے۔ آخر کو ہمارے خطے کے عسکری و سیاسی کلچر کو کمپنی بہادر نے ہی تو جنم دے کے پالا پوسا تھا۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

army role in pakistan politicsPakistanPakistan Armypakistan army chiefpakistan army in politicspakistan army vs pakistan politicspakistan crisispakistan economic crisispakistan economypakistan electionpakistan militarypakistan newspakistan political crisesPakistan Political Crisispakistan political crisis 2022pakistan political crisis livepakistan political crisis newspakistan political historypakistan political partiespakistan political situationPakistan Political Systempakistan political turmoilPakistan Politicspakistan politics armypakistan politics documentarypakistan politics explainedpakistan politics fightpakistan politics historypakistan politics todayPakistani ArmyPakistani Politicspolitical crisis in pakistanpolitical situation in pakistanrole of army in pakistani politics
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ڈیمنشیا روکنے کے لیے امریکی ماہر کی مفید تجاویز

Next

کیا ہر قسم کی ’محنت میں عظمت‘ پائی جاتی ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme