پاکستان کے 77 برس اور ’بمپی سڑک‘: ’جنرل صاحب سدا سلامت رہیں‘
ہر برس کی طرح اس یومِ آزادی پر بھی پاکستان اندرونی و بیرونی دشمنوں سے نہ صرف گھرا ہوا ہے بلکہ ان دشمنوں کی تعداد سال بہ سال بڑھ رہی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سوائے فوجی قیادت کے کسی کو نہ ان خطرات کا پوری طرح سے ادراک ہے اور نہ ان سے بہ…
وہ، جو ہم پر مسلط رہے۔۔
میرے (بطور سیکریٹری ٹو گورنر جنرل) چارج لینے کے چند روز بعد نومبر میں کراچی میونسپل کارپوریشن نے گورنر جنرل (ملک غلام محمد) کو ایک استقبالیہ پر مدعو کیا۔ استقبالیہ سے چند گھٹے قبل مجھے انٹیلی جنس کی ایک اسپیشل رپورٹ موصول ہوئی، جس میں یہ خدشہ ظاہر کیا…
نظام آلودہ تھا، اب تعفن زدہ ہو چکا!
چھ ججز کا خط منظر عام پر آتے ہی کہیں انقلاب کی نوید سنائی گئی تو کہیں سازش کی بو سونگھتے ہوئے مناسب بندوبست کیے جانے کا اعلان ہوا۔ یہ پریم پتر اچانک منظرِ عام پر نہیں آیا۔ اس کا بیک گراؤنڈ ہے، دو بار یہ ججز اپنے چیف جسٹس سے شکایت لگا چکے ہیں۔…
مریضِ پاکستان اور اس کا قابل معالج
چلیئے یہ بھی ہو گیا۔۔ 2014 کے دھرنے سے اب تک کی اکھاڑ پچھاڑ، تجربات، ناکامیوں، چار وزراِ اعظم اور تین حکومتیں بدلنے کے بعد، وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں کہ ’مڑ گڑ کے کھوتی بوہڑ تھلے‘ یعنی، گھوم پھر کے سسٹم کی گدھی اسی برگد تلے دوبارہ آن کھڑی ہوئی۔ یہ سب…
ہمارے ڈنڈے والے استاد
اسلام آباد میں نوجوانوں سے سپہ سالار کے خطاب کی جھلکیاں پڑھتے ہوئے میری نسل کے ان لوگوں کو، جنہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گذشتہ صدی میں سرکاری اسکولوں میں حاصل کی ہے، انہیں اپنے ہائی اسکول کے استاد یاد آئے ہوں گے۔ اب بھی کبھی بچہ پوچھتا ہے کہ آپ کے اسکول…
جب آئین و قانون کاغذ کا جہاز بنا دیا جائے!
جوں جوں وقت گذر رہا ہے میرے دل میں ماضی کے آمروں کی عزت بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنے اپنے دور کے آئین کے ساتھ جو بھی کھلواڑ کیا، کھل کے اور ببانگِ دہل کیا ایوب خان نے انیس سو چھپن کا آئین لپیٹ کر اچھا کیا کہ برا۔۔ یحیٰی خان نے باسٹھ…
عمران وغیرہ کے پرزے دھونے میں ٹائم لگے گا
یہ تب کی بات ہے، جب خاندان اور گلی محلے کا نظام بزرگوں کی جنبشِ ابرو اور دبدبے پر چلا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ صبح جب بھائی، باپ، شوہر وغیرہ اپنے اپنے کاموں پر اور بچے اسکول روانہ ہو جاتے تھے تو محلے کی بہو، بیٹیاں، نانیاں، دادیاں پچھلی گلی میں کُھلنے…
جمہوریت میں ’عسکری نرسری کے سياسی پھول پودے‘
سياسی حلقوں ميں یہی سوال گونج رہا ہے۔ کيا پيپلز پارٹی کو نکيل ڈالنے کے لیے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو جی ڈی اے کے پليٹ فام سے سياست ميں فعال کيا جا رہا ہے، کیا منصوبہ سازوں کو جام صادق طرز کے کسی نئے سياست دان کی ضرورت ہے؟ خبر ہے کہ يہ منصوبہ تیاری…