سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط54)
اگلے دن کی نئی صبح، نئی ہوا۔۔ جبکہ پرانا سورج نئی دھوپ لئے ہے۔ نہائے دو دن ہو چکے ہیں۔ میں نے حضور بخش سے کہا، ”سائیں! کچھ نہانے کا بندوبست ہو سکتا ہے۔“ وہ بولا ”میڈا سائیں! ابھی چادر تان کر نہانے کی جگہ بنا دیتا ہوں۔“ چادر کے بنے اس غسل خانے میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط44)
جی ٹی روڈ علی الصبح سنسان ہے اور اس کے کنارے وقت کی دھول میں چھپتی ’بہرام کی بارہ دری‘ اشوک اعظم کے دور کے اسٹوپاز، شیر شاہ سوری کی ڈاک چوکی پر بھی ویرانی کا ہی ڈیرہ ہے۔ اس شاہراہ سے گزرنے والے چند ہی لوگ ہوں گے، جن کی توجہ یہ مٹتی گرتی…
سندھو سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط43)
رات ہمارے گرد تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آسمان پر ابتدائی شب کا چاند، اس کی کرنیں گیندی شفق سے پھسل پھسل کر زمین پر اس طرح پھیل رہی ہیں جیسے زمین کی سطح پر کسی نرم و نازک پھول کی پنکھڑیاں بکھیری ہوں۔ ہوا کے جھونکوں کی سر سراہٹ ایسے لگ رہی ہے جیسے…