ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم…
ندی کے زہر میں دفن تہذیب: ’سوناءِ کُوھر‘ کا المیہ
پہاڑی علاقوں کی وہ ندیاں، جو بارش کے بعد جنم لیتی ہیں اور جھرنوں کی صورت میں بہتے ہوئے نیچے کے میدانوں تک زندگی پہنچاتی ہیں، دراصل قدرت کا وہ خاموش تحفہ ہیں جن پر پورا ایک ماحولیاتی نظام قائم ہوتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی سے نکلنے والا شفاف پانی جب کئی کلومیٹر…
کراچی میں ماحولیاتی توازن بمقابلہ تعمیرات: فوٹوگرافر سلمان بلوچ سے مکالمہ
کراچی کا سب سے بڑا ضلع ملیر صدیوں سے مقامی سندھی اور بلوچ قبائل کا مسکن رہا ہے، جو ایک مشترکہ زرعی معاشرے کے طور پر ماحول پر انحصار کرتے تھے۔ تاہم، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور ترقیاتی منصوبے زمین، پانی اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔…
سندھ نہروں کا معاملہ، ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ
حکومت نے کچھ ہی عرصہ پہلے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کی منظوری دی ہے جن میں چولستان اور تھر کے علاقے سیراب کرنے کے لیے بھی نہروں کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ نہریں ملک کی 48 لاکھ ایکڑ زمین پر ’گرین کارپوریٹ فارمنگ‘ کرنے کے لیے نکالی جا رہی ہیں، جس…
ایجوکیشن سٹی میں آغا خان ہاسپٹل کی زہریلی ہوائیں
کوئی مانے یا نہ مانے ہمارے لہو سے ہماری قبروں پہ ’ترقی‘ کی عمارت تعمیر ہو رہی ہے، چاہے وہ پچھلے پچھتر سال سے کراچی شہر کا پھیلتا کنکریٹ کا جنگل ہو، جس میں کراچی کے انڈیجینئس لوگوں کو اپنی ہی زمینوں، گھروں سے بےدخل کیا گیا، ان پچھتر سالوں میں قبضہ مافیا و…