Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Indus-River-Canals-and-Environmental-Issues.
کالماہم ترینتازہ ترین

سندھ نہروں کا معاملہ، ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ

By Akhtar Rasool
جنوری 26, 2025 4 Min Read
0

حکومت نے کچھ ہی عرصہ پہلے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کی منظوری دی ہے جن میں چولستان اور تھر کے علاقے سیراب کرنے کے لیے بھی نہروں کی منظوری دی گئی ہے۔

یہ نہریں ملک کی 48 لاکھ ایکڑ زمین پر ’گرین کارپوریٹ فارمنگ‘ کرنے کے لیے نکالی جا رہی ہیں، جس میں تمام صوبوں کی زمینیں شامل ہیں۔

کارپوریٹ فارمنگ حکومت کی قائم کی گئی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کا شروع کیا گیا منصوبہ ہے۔ اس کونسل کے صدر وزیراعظم جبکہ آرمی چیف اور تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اس کونسل کی اپیکس کمیٹی کے ممبران ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عملی طور پر آرمی چیف ہی اس کونسل کے روح رواں ہیں۔

سیاسی ماہرین دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کے منصوبے کوسندھ کے عوام کے حق پر ڈاکہ قرار دیتے ہیں جبکہ ماہرین اسے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق معاہدوں کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ دریا کے ساتھ آبادیوں اور ماحول کی تباہی کا آغاز گردانتے ہیں۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا، سینیٹ میں بھی دریائے سندھ کے پانی کو کارپوریٹ فارمنگ کے لیے موڑنے کے حکومتی منصوبے پر شدید بحث ہوئی ہے، جہاں ارکان نے اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر چھ نئی نہریں تعمیر کرنے کی تجویز کو سندھ کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چولستان کی بنجر زمینوں کو سیراب کرنے سے سندھ کی زرخیز زمینیں بنجر ہو سکتی ہیں، جس سے 20 ملین افراد بے گھر ہو جائیں گے اور زرعی پیداوار کو خطرہ لاحق ہوگا۔

جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی کہا ہے کہ 1991ء کے پانی کے معاہدے کے تحت پانی کی تقسیم پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، اور اس منصوبے کو صرف اس صورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے اگر اضافی پانی دستیاب ہو، جو کہ درحقیقت دستیاب نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ وسند تھری سندھ کی عوامی تحریک کے مرکزی صدر ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’ان نئی اسٹریٹجک کینالز کے ذریعے سندھ مکمل بنجر ہو جائے گا سندھ کا تباہ حال انڈس ڈیلٹا، جو دنیا کا پانچواں بڑا ڈیلٹا اور رامسر سائٹ ہے، ختم ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ملک ایسے خطرناک ماحولیاتی مسائل کا شکار ہو جائے گا جو دینا بھر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘

وسند تھری نہروں کے اس منصوبے کو حکومت کی اتحادی پارٹیوں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ قرار دیتے ہیں: ”جس طرح پہلے ڈکٹیٹرز جیسے کے جنرل ضیا، جنرل مشرف اور خاص طور پر جنرل ایوب نے ملک بیچ کر ملک کا نقصان کیا، موجودہ طاقتیں بھی ایسے فیصلے کرنے جا رہی ہیں جو کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔ ارسا ایکٹ میں تبدیلی کر کے سندھ کا بچا ہوا پانی غیر ملکی کمپنیوں کو بیچنا کسی صورت قانونی نہیں ہے۔‘‘

ماہرین کے مطابق انڈس ڈیلٹا میں کوئی بھی نئی نہر سندھ کے نیچے کی آبادی پر سخت اثرات مرتب کرے گی، خاص طور پر انڈس ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام پر۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سو پچاس سال کے عرصے سے انڈس دریا کا نظام مسلسل بند کیا جا رہا ہے اور موڑا جا رہا ہے۔ تقریباً 200 سال پہلے کی نسبت، انڈس ڈیلٹا 150 ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ کم ہو چکا ہے، یعنی جس جگہ دریا سمندر سے ملتا ہے اس کا پھیلاؤ پہلے کی نسبت بہت زیادہ کم ہو چکا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی ضائع ہونے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں اور آبی معاملات کے ماہر نصیر میمن کہتے ہیں کہ ضائع تو درکنار پانی کی کم از کم مقدار جو انیس سو اکانوے کے آبی معاہدے کے تحت دس میلن ایکڑ فٹ طے پائی تھی، وہ انڈس ڈیلٹا یعنی اس مقام تک نہں پہنچ پاتی جہاں دریا سمندر سے ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’’یہ جو نئی نہروں کی بات ہو رہی ہے یہ نظام قدرت کو چھیڑنے کے مترادف ہے اور ایک خاص مقدار میں پانی کا ڈیلٹا تک پہنچنا ماحولیاتی فطری توازن کے لیے نا گزیر ہے۔‘‘

ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت اپنے کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کے لیے مخصوص علاقوں میں پانی کی فراہمی کے دیگر طریقے اپنا سکتی ہے، جو کمیونٹیز کے درمیان تنازعات سے بچنے کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں کے لیے پانی کی پائیدار فراہمی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ پانی کے وسائل کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس کا کہنا ہے ”متبادل طریقے موجود ہیں اور وہ زیادہ پائیدار بھی ہیں۔ حکومت کو کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کے لیے دریائی کناروں سے پانی کے فلٹریشن اور پانی کی منتقلی کے لیے پمپ اور پائپ کے طریقے استعمال کرنے چاہییں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ نہریں موسمیاتی لحاظ سے پانی کی سپلائی کا دیرپا بندوبست نہیں ہیں۔ ڈاکٹر حسن عباس کا مزید کہنا تھا، ”اگر پائپ کے ذریعے پانی منتقل کیا جائے تو حکومت راستے میں موجود محروم علاقوں کے رہنے والوں کو صاف پانی فراہم کر کے ان کے دل بھی جیت سکتی ہے۔ جہاں تک ان بڑے فارموں کی آبپاشی کا تعلق ہے، جن کی حکومت نے منصوبہ بندی کی ہے، ان کے لیے نئی آبپاشی ٹیکنالوجیز استعمال کی جانی چاہییں جیسا کہ ہائیڈروپونکس اور ڈرپ اریگیشن، جو کم پانی ضائع کرتی ہیں اور بہتر پیداوار دیتی ہیں۔‘‘

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

Tags:

agricultural productivityAgricultureagriculture and environmentagriculture developmentalternative water solutionsand water scarcity solutionsBiodiversityCholistanClimate changeclimate-induced disasterscorporate farmingcorporate interestscorporate water usecrop irrigationcross-provincial issuesdesert farmingdesert regionsdesertificationDrip irrigationeco-friendly irrigationeco-friendly solutionsecological awarenessecological balanceecological consequencesecological sustainabilityEconomic Impactecosystem destructionenvironmental activistsEnvironmental Advocacyenvironmental damageenvironmental degradationenvironmental impactEnvironmental Justiceenvironmental regulationsfarming technologyfreshwater ecosystemsfreshwater resourcesfreshwater systemsgovernment policiesgovernment water projectsgreen corporate farminghydroponicsimpact on livelihoodsIndus Delta ecosystemIndus Riverinternational agreementsIrrigationirrigation systemsland irrigationlegislative debateslong-term sustainabilitymilitary involvementmilitary’s role in governancenational water resourcespakistan water crisisPakistan water policyPakistan’s agriculture sectorpolitical accountabilitypolitical decisionspolitical influencepublic consultationregional cooperationregional water disputesResource managementriver waterrural communitiesSindh canalsSindh DeltaSindh’s agricultural landscapeSindh’s rightssocio-economic impactspecial investment facilitation councilSustainable Developmentsustainable farmingTharwater accessibilitywater agreementswater allocationwater allocation planswater and agriculturewater availabilityWater conflictswater conservationwater conservation methodsWater Criseswater distributionwater distribution agreementswater efficiencywater extractionwater filtrationwater flow managementwater flow regulationwater for corporate farmingwater governancewater governance policieswater infrastructurewater infrastructure projectswater law reformswater managementwater management challengeswater mismanagementWater Pollutionwater projectswater protestswater reformswater resource managementwater rightswater scarcitywater scarcity solutionswater sharingwater shortagewater sustainabilitywater usage rightswater-based conflictswater-driven policies
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Irritable-bowel-syndrome-Men-reaching-menopause-fact-or-myth
Previous

ایریٹیبل میل سنڈروم: مردوں کا سنِ یاس کو پہنچنا، حقیقت یا افسانہ؟

Death-of-a-Television-Selected-Fiction-from-Hindi-Literature
Next

ایک ٹیلی وژن کی موت (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme