کل خوبصورت تھا (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
اس نے جھک کر اپنے ٹخنے کو مسلا، جہاں چلتے ہوئے اسے موچ آگئی تھی تاکہ وہ اپنے ٹخنے کی ہڈی کو نہ دیکھ سکے۔ پھر اس نے سیدھے کھڑے ہو کر اپنے اردگرد دیکھا۔ اپنی جیب میں سگریٹ کی ڈبی کو ٹٹول کر اس نے ایک سگریٹ نکالا اور اسے سلگا لیا۔ اس نے…
دشتِ امکاں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
خزانے والا خواب برسوں پرانا تھا، ایک صبح ناشتہ کرتے ہوئے ماں نے کہا تھا۔۔۔ ’’مجھے یقین ہے کہ اس گھر میں کہیں خزانہ ہے۔‘‘ ان کی خاموشی پر وہ جھجک سی گئی۔۔۔ ’’رات میں نے پھر وہی خواب دیکھا ہے۔‘‘ اس نے پوچھا۔۔۔ ’’کون سا خواب؟‘‘ ’’وہی خزانے والا۔۔۔ میں وہاں…
تلوار کی شکل (ارجنٹینی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کے چہرے پر راکھ کے رنگ کا ایک بد نما زخم کا نشان تھا، تقریباً مکمل قوس نما، جس کے ایک طرف کنپٹی اور دوسری طرف رخسار کی ہڈی تھی۔ اس کے اصل نام سے کسی کو کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹاکوریمبو میں سب اسے لاکولوراڈو کا انگریز کہتے تھے۔ کھیتوں کا مالک کارڈوسا…
تضاد (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
جیسے ہی وہ دفتر میں داخل ہوا، سپرنٹنڈنٹ اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا اور ایک کرسی کو ہیٹر کے قریب کرتے ہوئے کہنے لگا: ’’واہ جناب، حاجی صاحب! کہاں رہ گئے تھے؟“ توے جیسی سیاہ رنگت کا حامل یہ شخص پچاس ساٹھ برس کی عمر کا تھا۔ اس کی صحت اچھی تھی اور وہ…
ایک نسل کا تماشا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
مجھے معلوم نہیں کہ میرا اس کہانی سے کیا تعلق ہے اور یہ کہانی کس نے مجھے سنائی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میں اس کہانی کے ایک ایک منظر سے واقف ہوں اور اس لمحے کو بھی دیکھ سکتا ہوں، جب ایک روز گزرتے ہوئے بادشاہ کی نظر ایک درویش پر پڑی، بادشاہ…
جانوس (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
آندھی کے آثار تھے۔ دور شمال کی طرف آسمان زیادہ تاریک ہو گیا تھا اور فضا میں ہلکی سنسناہٹ تھی۔ ہوا کی رفتار تیز ہو چکی تھی، لیکن ابھی اس میں ناہمواری نہیں آئی تھی۔ اس رات بھی مجھ کو نیند نہیں آ رہی تھی مگر میں نے بستر پر لیٹ کر بجلی بجھا دی۔…
دشتِ تمنا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
خزانے کا خواب متوسط طبقے کے اکثر لوگوں کی طرح اسے بھی وراثت میں ملا تھا، پرانے گھر میں اس کے باپ نے بھی کئی جگہیں لکھ دی تھیں لیکن خزانہ تو نہ ملا گھر کی خستگی میں اضافہ ہو گیا۔ پھر اس نے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیا جو اسے اپنی ماں سے ورثے…
فیصلہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
ان دنوں ہیرالال اور میں اکثر شام کو گھومنے جایا کرتے تھے۔ شہر کی گلیاں اُلانگھ کر ہم شہر کے باہر کھیتوں کی طرف نکل جاتے تھے۔ ہیرالال کو باتیں کرنے کا شوق تھا اور مجھے اس کی باتیں سننے کا۔ وہ باتیں کرتا تو لگتا جیسے زندگی بول رہی ہے۔ اس کے واقعات اور…