یہ وقت محبت کا نہیں (جدید یونانی ادب سے منتخب افسانہ)
محبت کی اس کہانی نے تب کھِلنا چاہا، جب قرضے کا بحران ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ یہ ایک مشکل وقت تھا۔ تناﺅ والے اِس دور میں لٹیرے سرمایہ داروں کے محنت کشوں پر حملے جاری تھے اور یہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ سرمایہ فراہم کرنے والے عالمی سرمایہ داروں نے بھی کُھل کر…
دلدل (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
میّنْک جی لفظوں کے کاریگر تھے – بہت اچھے کاریگر – لفظوں کو گڑھتے، چھیلتے، کاٹتے، تراشتے – انہیں روپ دیتے – کئی طرح کے روپ — لفظوں سے وہ پھول کھلاتے۔قدرت کے رازوں کو بُوجھنے کی کوشش کرتے۔ ان کے لفظ غریبوں کے گھروں میں جا کر…
کھلائے ہیں آگ میں پھول، زندانی نثر یا جیل میں لکھا ادب
”اب سارے واقعات خود بولتے جاؤ۔ یاد رکھو، جہاں میرا قلم رکا، وہیں تمہاری پٹائی شروع کروں گا۔“ اور میں اسے گذشتہ تین سال پر مبنی واقعات لکھوانے لگا۔ ذہن سخت مائوف تھا، اس لیے واقعات کے تسلسل میں ذرا بھی ٹھہراؤ پیدا ہوتا، دو تین تھپڑ میری گردن پر آ کر لگتے،…
شجاع (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
میرا دل خوف سے دھڑک رہا تھا، اندھی گولیوں کا تصور ہی میرا خون خشک کئے دے رہا تھا، بم پھٹنے کے خیال ہی سے میرے جسم میں لرزہ تھا، ایک لمحے کو میں نے معرکے سے فرار ہونے کا سوچا، لیکن اگلے ہی لمحے مجھے اپنے ساتھیوں کا خیال آیا کہ وہ میرے بارے…
حاجی مراد (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
حاجی مراد نے اپنی دکان کے چبوترے سے نیچے چھلانگ لگائی، اپنے لباس کی سلوٹوں کو درست کرتے ہوئے چاندنی رنگ کا کمربند مضبوط کیا، مہندی لگی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور اپنے شاگرد حسن کو آواز دی۔ پھر دونوں نے مل کر دکان بند کی۔ اس کے بعد حاجی مراد نے اپنی جیب سے…
سوانگ (چیک ادب سے منتخب افسانہ)
1 کار کے پٹرول گیج کی سوئی نے اچانک ٹینک کے خالی ہونے کا اشارہ دیا اور اسپورٹس کار کے نوجوان ڈرائیور نے اعلان کیا کہ یہ کار پاگل کر دینے کی حد تک زیادہ پٹرول کھاتی ہے۔ ’’دیکھنا کہیں پٹرول ختم نہ ہو جائے،‘‘ لڑکی نے، جو تقریباً بائیس برس کی تھی، احتجاج کیا…
قبرستان کا رشتہ (فرینچ ادب سے منتخب افسانہ)
پانچوں دوست اپنی دعوت کے اختتام پر تھے۔ وہ سب اس خبر کے ادھیڑ عمر رؤسا تھے۔ ان میں سے دو کنوارے اور تین شادی شدہ تھے۔ وہ اپنی جوانی کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے مہینے میں ایک دفعہ یکجا ہوا کرتے تھے، پہلے طعام کا انتظام ہوتا تھا اور اس کے بعد…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (دوسرا حصہ)
یہ 21 اگست 1641ء بدھ کے دن کے ابتدائی پہر ہیں۔ بارش کا موسم اس برس تھوڑی بارشوں کے ساتھ آیا اور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ رات کے وجود میں ہلکی سی نمی اور ٹھنڈک ہے۔ شاہی قلعے کے شمال میں راوی کنارے بندرگاہ پر چہل پہل ہے۔ بہت سارے جہاز جانے کی…