ادل بدل (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
”چوہدری جی! لٹیا گیا، کسے نوں منہ دکھانڑ جوگا نہیں رہیا۔۔۔“ واویلا سن کر گہری نیند سویا ہوا زمیندار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تیزی سے حویلی کے اندرونی حصے سے باہر کی طرف لپکا۔ نکلتے قد، گھنگریالے بالوں والا خوشرو چوہدری دلاور، جسے ہر کوئی نکا چوہدری کہ کر…
سچائی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
سارا ارجنٹا کو، جس کی عرفیت ترارا تھی، جوں ہی کمرہِ عدالت کے باقی حصوں سے باڑ لگا کر کٹہرے میں لایا گیا، اس نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی جیب سے پیلے پھولوں والا ایک سرخ سوتی رومال نکالا اور نشست پر احتیاط سے پھیلا دیا تاکہ اس کے تہوار جیسے لباس پر…
’اپنی محبت کو میری آواز پر چلنے اور میری خاموشی پر آرام کرنے دو۔۔‘ رابندرناتھ ٹیگور کی داستانِ محبت
کہتے ہیں کہ پہلی عالمی جنگ میں برطانوی فوج کے گورکھا رجمنٹ میں موجود ایک ہندوستانی فوجی کو جرمن فوجیوں نے قید کر لیا، جس کی دونوں ٹانگیں زخمی کردی گئیں تھیں۔ اس کی زندگی بچانے کے لیے اس کی ایک ٹانگ کاٹنا ضروری تھا اور جرمن چیف سرجن اس مقصد کے لیے اس کی…
ہنری کسنجر، بھٹو کو دھمکی اور پاکستانی آم۔۔۔
کچھ عالمی تنازعات کے محرک اور کچھ کے حل سے شہرت پانے والے امریکی سفارت کار اور نوبیل انعام یافتہ دانش ور ڈاکٹر ہنری کسنجر اپنی زندگی کی سینچیری مکمل کرنے کے بعد چل بسے۔ یوں تو ان کی سفارتی زندگی بے شمار عالمی تنازعات کے تصفیوں اور بعض متنازع معاملات سے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط64)
خیرپور ریاست کے سابق میروں کا ایک شکوہ ہے کہ شاید اس ریاست اور گورنر جنرل پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے درمیان ہونے والے معاہدہ پر مکمل طور پر یا اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔ میر سہراب خاں کی قائم کردہ ”تماثیل مہرانو“ (sanctuary…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط61)
”قدیم دور کا ’اروڑ‘ یا ’بکر‘ یا ’سکر‘ اور دور حاضر کا سکھر، سندھ یا وادی مہران کا تیسرا بڑا شہر میرے مغربی کنارے آباد ہے۔ سندھی زبان کے لفظ سکھر کا مطلب ہے ”اعلیٰ“۔ اس شہر کا معروف بھی ہے ”دریا ڈنو“ یعنی ”دریا کا تحفہ“ اگر میں ادھر سے نہ بہتا تو یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط59)
سُوریءَ تے سو وار، ڈیھاڑیو چنگ چڑھِیں جِم وِرچی چھڈئَیں، سِکَنڑ جی پچار پِرت نہ پَسیں پار، نِینھں جئائین نِگئو (شاہ عبدلطیف بھٹائیؒ) منظوم ترجمہ: عاشق سولی چڑھتے ہیں دن میں سو سو بار پریت کی ریت کو بھول نہ جانا، دیکھ کے نیزے، دار جا تو اب اس پار، پنپ رہی…
ایک اور نکبہ، گردن اور تلوار کا مکالمہ
پاکستانی نژاد پروفیسر ارسلان خان نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے اگر ہم اپنے ماتھے پر یہ لفظ کنندہ کروا لیں کہ میں حماس کی مذمت کرتا ہوں تو بھی ہمیں اس بات کی اجازت نہیں ملے گی کہ ہم اس بارے میں بات کریں کہ اسرائیل ایک نسل پرست ریاست ہے، جو فلسطینی علاقوں…