بدلتے زمانے میں غلامی کی بدلتی شکلیں
قدیم زمانے میں جب طاقتور قومیں کمزوروں پر حملہ کرتی تھیں تو ان کے تین مقاصد ہوتے تھے۔ مالِ غنیمت کو لوٹنا، مفتوح قوم کی زمینوں پر قبضہ کرنا اور جنگی قیدیوں کو غلام بنانا۔ ابتدا میں جنگی قیدیوں کو فتح کے بعد قتل کر دیا جاتا تھا، تاکہ وہ ان کے لیے خطرے کا…
دلت ذات کا المیہ
ہندو سماج کو چار ذاتوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پانچویں ذات اچھوتوں کی ہے، جو اب دلت کہلاتے ہیں۔ اس میں تمام نچلی ذات کے لوگ شامل ہیں، جنہیں ان کے ماضی اور کلچر سے محروم کر کے اونچی ذات والوں نے ان کی غلامانہ حیثیت بنا دی ہے، جن کا کام محنت و…
پاکستان میں ذات پات کا نظام
عام خیال یہ ہے کہ ذات پات کا نظام صرف بھارت میں مضبوط رہا ہے، جہاں ہندو مت کے عقائد کے مطابق الوہی طور پر ہندو سماج کی تقسیم برہمن، کھشتری، ویش اور شودر میں ہے، جن میں برہمن کا کام مذہبی رسومات کی ادائیگی، پوجا پاٹ اور مذہبی کتابوں کا علم حاصل کرنا ہے۔…
امریکہ میں غلامی، جس سے مر کر ہی رہائی ملتی تھی
سولہویں صدی میں جب نوآبادکار انگلستان سے امریکہ آئے اور اپنی بستیاں آباد کیں تو انہیں مختلف شعبوں میں کام کے لیے نوکر اور غلام چاہیے تھے۔ اس کی وجہ سے کالونیوں میں طبقاتی تقسیم پیدا ہوئی۔ امریکہ کی نئی کالونیوں میں کاریگروں، مزدوروں اور کسانوں کی سخت…
پھول، مگر مچھ اور زنجیریں (تھائی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ ایک وجیہہ نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر بظاہر بیماری کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نہ اس کا رنگ زرد تھا نہ چہرے پر وحشت کا کوئی نشان بلکہ اس کی آنکھوں سے غیر معمولی ذہانت جھلکیاں مار رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ…
ایک بُدھو (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
کچھ دن قبل میں نے اپنے بچوں کی گورنس، جولیا ویسلوینا کو اپنی اسٹڈی میں بلایا۔ ”بیٹھ جاؤ جولیا ویسلوینا!“ میں نے کہا، ”آؤ ہم آپس میں حساب کتاب کر لیں۔۔ اگرچہ تمہیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے لیکن تم تکلفاً کوئی تقاضہ نہیں کرو گی۔۔ ہمارے درمیان تیس روبلز ماہانہ…
ابال (منتخب اردو افسانہ)
جب دودھ ابل ابل کر کوئلوں پر گرنے لگا اور شاں۔۔۔ شاں کی آواز کے ساتھ ایک تیز سی بُو اٹھی تو چندن نے ہڑبڑا کر پتیلی کی طرف ہاتھ بڑھایا، جو کوئلوں کی تپش سے سرخ ہو رہی تھی۔ بےبسی کے انداز میں چندن نے جلد جلد ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ کوئی کپڑا پاس نہ…
ایک ٹیلی وژن کی موت (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
پرماتما کی بے پناہ مہربانی سے آج میں ساڑھے تین منزلہ کوٹھی کا مالک ہوں۔ کبھی ایک معمولی ملازم کی حیثیت سے دبئی گیا تھا، صنعتکار اور کروڑپتی بن کر واپس آیا۔ میری کئی فیکٹریاں ہیں، گھر میں خوبصورت اور نیک بیوی ہے، لائق بچے ہیں، نوکر چاکر ہیں، دروازے پر دو…