Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Changing-forms-of-slavery-in-changing-times
اہم ترینتازہ ترینکالم

بدلتے زمانے میں غلامی کی بدلتی شکلیں

By Akhtar Rasool
جولائی 10, 2025 3 Min Read
0

قدیم زمانے میں جب طاقتور قومیں کمزوروں پر حملہ کرتی تھیں تو ان کے تین مقاصد ہوتے تھے۔ مالِ غنیمت کو لوٹنا، مفتوح قوم کی زمینوں پر قبضہ کرنا اور جنگی قیدیوں کو غلام بنانا۔

ابتدا میں جنگی قیدیوں کو فتح کے بعد قتل کر دیا جاتا تھا، تاکہ وہ ان کے لیے خطرے کا باعث نہ بنیں لیکن بعد میں اس پالیسی کو بدلا گیا اور قیدیوں کو یا تو فاتح لشکر میں بطور انعام تقسیم کر دیا جاتا یا انہیں غلام بنا کر اور غیر مسلح کر کے منڈیوں میں فروخت کر دیا جاتا۔

جب مفتوح قوموں کو غلام بنانے کا رواج شروع ہوا تو غلاموں کی تجارت کرنے والے تاجر مع رقم اور سواریوں کے میدانِ جنگ میں پہنچ جاتے تھے اور وہاں غلاموں کو خریدتے تھے۔ فروخت ہونے والے غلاموں کو ان کے خاندان سے جدا کر دیا جاتا تھا، کیونکہ بیٹے کو کسی ایک تاجر نے اور باپ کو کسی دوسرے تاجر نے خریدا۔

نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ یہ فروخت ہونے والے غلام اپنے رشتے داروں کو زندگی میں دوبارہ نہیں دیکھ پاتے تھے۔ تاجر ان غلاموں کو شہروں کی مختلف منڈیوں میں لے جا کر فروخت کر دیتے تھے اور اس انسانی کاروبار میں ان کے لیے بڑا منافع تھا۔

ایتھنز کی جمہوریہ میں غلامی کے ادارے کی اہمیت تھی۔ ایک تو جنگی قیدی غلام ہوتے تھے، دوسرے وہ غریب لوگ جو اپنا قرض ادا نہیں کر پاتے تھے، انہیں بھی غلام بنا لیا جاتا تھا۔

بعض غریب اپنے بچوں کو قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں ادائیگی کے بدلے قرض خواہ کو دے دیتے تھے۔ غلام عورتوں کے بچوں کو بھی غلام ہی مانا جاتا تھا۔ قانونی طور پر غلام مالک کی ملکیت ہوتا تھا۔

اس کی اپنی نہ تو کوئی شناخت ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی حقوق۔ غلاموں کو ووٹ دینے کا حق نہیں تھا، یہ گھریلو کاموں کے بھی ذمہ دار ہوتے تھے کیونکہ عورتیں گھر سے باہر نہیں نکل سکتی تھیں۔

چوتھی صدی قبل مسیح میں سولن نامی قانون دان نے نئے قوانین میں ممنوع کر دیا کہ یونانیوں کو غلام نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ جن یونانی غلاموں کو ایتھنز سے باہر فروخت کر دیا گیا تھا، انہیں بھی واپس لایا جائے۔

ٹرائے کی جنگ میں جب مفتوحہ عورتوں کو بطور غلام تقسیم کیا جاتا تھا تو ان میں امیر و غریب سبھی عورتیں ایک ہی صف میں کھڑی کر دی جاتی تھیں۔ ایتھنز کے ڈراما نگار یوریپڈیز نے ’ٹروجن عورتیں‘ کے نام سے ایک ڈراما پیش کیا تھا، جس میں مفتوحہ عورتیں اس تشویش میں مبتلا تھیں کہ نہ جانے ان کو کس کا غلام بننا پڑے اور یوں پوری زندگی غلامی میں گزر جائے گی۔

یونانی فوج کا سربراہ آگامیمنون جب جنگ سے واپس یونان آیا تو اپنے ساتھ ایک کنیز کو بھی لایا تو اس پر اس کی بیوی نے اپنے شوہر کو قتل کر دیا۔

غلامی معاشرے کے لیے ایک المیہ تھی۔ معاشرے کے مفکرین اور فلسفیوں کا یہ دستور رہا ہے کہ حکمراں طبقوں کی حمایت میں ہر اس ادارے کو جائز قرار دے دیتے ہیں، جو ان کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

ارسطو نے بھی غلامی کی حمایت میں کئی دلائل دیے۔ اس کی دلیل کے مطابق یہ قدرت کا اصول ہے کہ کچھ لوگ حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور کچھ ان کی خدمت کے لیے، لہٰذا غلاموں کو اپنے مالک کا وفادار ہونا چاہیے۔

ارسطو کا یہ بھی کہنا تھا کہ غلاموں کی وجہ سے مفکرین، فلسفیوں، ادیبوں اور شاعروں کو روزی کے لیے محنت و مشقت نہیں کرنی پڑتی اور وہ سکون سے بیٹھ کر تخلیقی کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ بھی تھی کہ حکمراں طبقے کو فرصت کے لمحات ملنے چاہییں تاکہ وہ غور و فکر کر سکیں۔

وقت کے ساتھ غلامی کا ادارہ تو ختم ہو گیا لیکن موجودہ دور میں غلامی نئی شکلوں میں وجود میں آئی ہے۔

مثلاً برصغیر میں اچھوت یا دلت ذات کے لوگ آج بھی غلام ہیں۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور سرمایہ دار کے غلام ہیں۔ دفتروں میں کام کرنے والے چپڑاسی اور کلرک عہدیداروں کے غلام ہیں۔ گھریلو کام کرنے والے ملازم مالک یا مالکہ کے غلام ہیں۔

غلامی کی یہ نئی شکلیں ہیں کیونکہ جب تک کسی فرد کو اس کے بنیادی حقوق نہیں ملیں گے اور معاشرے میں اس کو مساوی مقام نہیں دیا جائے گا تو وہ کسی نہ کسی شکل میں غلام ہی رہے گا۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

Tags:

Agamemnon storyancient slaveryAristotle on slaverybasic human rightsbonded laborcapitalist slaverycaste oppressioncaste-based slaverychanging forms of slaverychild slaverychildren in slaveryclass discriminationclass-based inequalityclassical slaveryclerical servitudecreative freedom and slaveryCultural OppressionDalits in Indiadebt slaverydehumanizationdenial of dignitydomestic servitudedomestic workerseconomic dependencyeconomic slaveryemployer dominationend of institutional slaveryenslaved womenequal statusEuripides Trojan Womenexploitation for leisureexploitation in officesfactory workersfemale slaveryforced laborforced servitudefreedom denialgender and slaveryGreek slavery lawsGreek tragedyhierarchical controlhistorical oppressionhousehold slaveryhuman traffickinginequality in societyinherited oppressioninvisible chainsjustification of slaverylabor exploitationlabor rightsland seizureloss of identitymental slaverymodern exploitationmodern labor slaverymodern slaverymoral blindnessnew age slaveryno legal rightsno voting rightsoffice hierarchyownership mindsetpeon exploitationphilosophical argumentsphilosophical support for slaveryphilosophy and slaverypower imbalancerights deprivationruling class supportseparation of familiesservant mistreatmentservitude legacyslave marketsslave obedienceslave ownershipslave tradersslavery criticismslavery in Athensslavery through historysocial class conflictSocial HierarchySocial Inequalitysocial justiceSolon reformsspoils of warStructural Injusticesubjugation historysystemic injusticesystemic oppressiontrojan warunpaid laborUntouchableswage slaverywar captivesWar Prisonerswomen slavesworker exploitation
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Could-a-solar-cycle-or-a-natural-event-bring-about-a-reduction-in-heat-after-2029
Previous

کیا 2029 کے بعد شمسی سائیکل یا کوئی قدرتی واقعہ گرمی میں کمی لا سکتا ہے؟

short-story-from-American-Literature
Next

شبِ آوارگی (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme