چھوٹی اداکارہ بڑی کہانی (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
کلے پول میں پندرہ ہزار لوگ رہتے تھے لیکن ان میں صرف ایک اداکارہ تھی، جس کی زنانہ ٹوپیوں کی دکان تھی۔ میرا نام سپارک ہے، میری گھڑیوں اور جیولری کی دکان مِس پوریٹس کی دکان کے سامنے پندرہ سال سے ہے۔ اس تمام عرصے میں وہ مجھ سے کبھی نہیں بولی اور میرا نہیں…
بوتیک (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
لفٹ ملازم نے گھما کر لفٹ کا دروازہ کھولا اور اماں اور مجھے گہری تنقیدی نظروں سے دیکھا۔ اس کے انداز سے یہ واضح تھا کہ وہ ہم سے زیادہ متاثر نہیں تھا: اماں اپنی سادہ سوتی ساڑھی میں اپنے ہلکے سفید بالوں کو روایتی انداز میں پیچھے باندھے ہوئے، دعوت نامے کو…
مہاجر (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
میں فقیر حقیر تمہیں اپنے بول کیسے سمجھاؤں؟ میں تو سننے والوں کو صرف اس لیے سننے کی تلقین کرتا رہتا ہوں کہ وہی مجھے میرے بول سمجھا دیا کریں۔ ہاں، تمہارا اعتراض غیر معقول نہیں کہ کوئی اپنے ٹخنوں میں کیوں کر بود و باش اختیار کر سکتا ہے، مگر جو ہو گیا، ہوا…
ایک ننھی سی مسکراہٹ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کپڑے بدلتے ہوئے راجن نے ریتا سے کہا، جو کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی، ”لفٹ میں آتے سمے میں نے ڈاکٹر پامانی کو لفٹ سے باہر نکلتے دیکھا ہے۔ بلڈنگ میں شاید کوئی بیمار ہے۔“ ریتا نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹیں رومال سے پونچھتے ہوئے کہا، ”رتی بیمار ہے، آج…
ایک چپ سو دکھ (منتخب افسانہ)
ایک وقت آتا ہے جب کچھ بھی ٹھیک ٹھیک یاد نہیں رہتا، اگرچہ کچھ نہ کچھ ہمیشہ یاد رہتا ہے اور وہ وقت مجھے ہمیشہ یاد رہا، جب اس نے مجھ سے کلام کیا تھا۔ یہ ایک تپتے دن کی تپش بھری شام تھی اور میں اس قہوہ خانے میں تھا، جہاں لفظ ساز اکٹھے…
ماں پڑھتی ہے (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کئی مہنوں بعد گاؤں آیا ہوں۔ماں یہاں اکیلی رہتی ہے۔ آج گھر کا دروازہ کھلا ہے، ورنہ تو ماں صبح سویرے دروازہ بند کر کے باہر کا کام نمٹانے چلی جاتی ہیں۔ صبح کا سارا وقت حویلی میں گزرتا ہے۔جانوروں کو چارا ڈالتے، گائے کا دودھ دھوہتے، گوبر پھینکتے۔ اِس سمے بھی…
اداکار کی موت (منتخب افسانہ)
شیانوف ایک لحیم شحیم اداکار تھا۔ اداکاری کے فن میں نہ سہی اپنی جناتی ضخامت کی وجہ سے تھیٹر میں خاصا کامیاب بھی تھا اور سادہ لوح طبیعت کے باعث مقبول بھی۔ دوسرے اداکار اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے۔ کوئی اس کو گینڈا کہتا۔ کوئی سرکاری سانڈ۔۔ لیکن سب اسے پیار…
قربانی (منتخب افسانہ)
خواہشات بغیر دستک دیے آدمی کے دل میں گھر کر جاتی ہیں اور جب تک وہ غور کرتا ہے تو یہ خواہشات اندر تک سرائیت کر چکی ہوتی ہے۔ اس آدمی کے اندر بھی خواہشوں کا جال پھیل رہا تھا لیکن اس کی تنخواہ محض 35 ہزار روپے تھی۔ وہ جب اپنی یا اپنے اردگرد…