اُڑان (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
اور ایک دن وہ سب کام دھندے چھوڑ کر گھر سے نکل پڑی۔۔ کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا، کوئی سمبندھی بیمار نہیں تھا، کسی کا لڑکا پاس نہیں ہوا تھا، کسی عزیز کی موت نہیں ہوئی تھی، کسی کی لڑکی کی سگائی نہیں ہوئی تھی، کہیں کوئی سنت مہاتما نہیں آیا تھا، کوئی تہوار…
عالاں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اماں ابھی دہی بلو رہی تھیں کہ وہ مٹی کا پیالہ لئے آ نکلی۔ یہ دیکھ کر کہ ابھی مکھن ہی نہیں نکالا گیا تو لسی کہاں سے ملے گی، وہ شش و پنج میں پڑ گئی کہ واپس چلی جائے یا وہیں کھڑی رہے۔ ’’بیٹھ جاؤ عالاں۔‘‘ اماں نے کہا، ’’ابھی دیتی ہوں۔۔۔ کیسی…
افطار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
’روزہ دار روزہ کھلوادے، اللہ تیرا بھلا کرے گا۔۔‘ کی صدائیں ڈیوڑھی سے آئیں۔ ڈپٹی صاحب کی بیگم صاحبہ، جن کا مزاج پہلے ہی سے چڑچڑا تھا، بولیں، ’’نامعلوم کم بخت یہ سارے دن کہاں مر جاتے ہیں۔ روزہ بھی تو چین سے نہیں کھولنے دیتے!‘‘ ’’اللہ تیرا بھلا کرےگا!‘‘ کی…
امام دستہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، مِیسَم روز کی طرح سلام کر کے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔…
انتقامِ اسیر
آج سے آٹھ سال قبل پیرس کے خوبصورت شہر میں ایک غریب مزدور رہتا تھا، اپنے علاوہ اسے دو پیٹ اور پالنے پڑتے۔۔۔۔۔۔ اس کی مالکہ یعنی بیوی اور ننھا سا بچہ۔ میں ناظرین کی خدمت میں حقیقت بیان کر رہا ہوں، جس میں کسی قسم کے تصنع کو دخل نہیں۔ جو کچھ بھی ہے،…
سانپوں سے نہ ڈرنے والا بچہ (افسانہ)
عبدالمنان سے وہ میری آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد سے اسے دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں۔ جب بھی دفتر کے کیمپس میں داخل ہوتے ہوئے آدم قد چہار دیواری پر نظر پڑتی تو نگاہوں میں عبدالمنان روشنی کے جھماکے کی طرح نمودار ہوتا۔ اس کا دبلا پتلا جسم۔ دھونکنی کی…
بُن بَست (منتخب افسانہ)
اس بار وطن آنے کے بعد میں نے شہر میں دن دن بھر گھومنا شروع کیا، اس لیے کہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہیں تھا۔ میری اماں سلائی کڑھائی کا کام کرکے جو تھوڑی بہت رقم پیدا کرتی تھیں، وہ ہم ماں بیٹوں کا پیٹ بھرنے کو کافی تھی، بلکہ میرے لیے تو ہمیشہ…
آخری حربہ (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
”یور آنر! میں اپیل کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔“ کیلتھ نے کہا۔ ایک لمحے کے لیے کمرہِ عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ بس ایک ہلکی سی گونج سنائی دے رہی تھی۔ پھر روبوٹ جج نے جواب دیا۔ ”درخواست منظور کی جاتی ہے۔“ کیلتھ نے سوچا ایک آزاد سرکٹ متحرک ہو گیا ہے۔ اپیلیں…