بڑا آدمی
ممبئی ایرپورٹ سے کیب لے کر سیدھا سیمینار ہال روٹری کلب جاؤن گا۔۔ پھر فوراً امی کے پاس بریلی جاؤں گا۔۔ لیکن امی۔۔ اور امی کو پاپا کی ادبی خدمات پر ہوئے سیمینار کی ساری باتیں سناؤں گا۔۔۔پاپا کی کامیابی اور ناکامی سب۔۔ امی کو بتاؤں گا۔ میری آنکھیں بھر آئیں…
چڑیل (سرائیکی افسانہ)
ایک مرتبہ دادی اپنے پوتے پوتیوں کو چڑیل والا قصہ سنا رہی تھی ۔ بچوں نے دادی سے پوچھا کہ چڑیل کی شکل کیسی ہوتی ہے؟ دادی نے ان کو بتایا کہ چڑیل کے بال اس طرح کے ہوتے ہیں اور دانت اس طرح۔۔ لیکن بچوں کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ آخر تنگ آ…
آخری جلسہ (روسی افسانہ)
بڈھے باشکوف نے اپنی بہو سے کہا ”جانتی ہو، آج کیا دن ہے۔۔ دیکھو، دھوپ نکل آئی، میرے باہر بیٹھنے کا انتظام کر دیا؟“ بہو مسکرائی، وہ اچھے نین نقش کی تھی، لیکن اس کا وزن بڑھتا جارہا تھا اور وہ خاصی بے ڈول ہو رہی تھی بڈھے باشکوف نے اپنے آپ سے کہا ’مرد…
پہاڑ ہل گیا! (جرمن افسانہ)
”ماں آج میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر نہیں جاسکتی۔۔ ماں آج میں تمہیں اپنے ساتھ گاڑی میں لے کر نہیں جا سکتی! ماں! میں آج۔۔۔۔“ مارلینے کا جملہ ادھورا رہ گیا اچانک ہی بیرٹا چلائی ”ہاں! میں نے سن لیا۔۔۔ میں نے سن لیا کہ تم مجھے آج بھی اپنے ساتھ نہیں لے کر…
خصوصی عدالت (فلسطینی کہانی)
حکومتی اعلان کے مطابق عدالت نے چند مشہور مقدمات کی سماعت کے لیے شہرمیں اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں طے ہوا کہ منتخب دیہات میں عدالتیں لگائی جائیں تاکہ انصاف قائم ہو۔ علاقے کے لوگ اس فیصلے پر حیران تھے۔ انہیں اس بات کی خوشی بھی تھی کہ چلیں ان کے بارے میں بھی…
کابلی والا (افسانہ)
میری پانچ سالہ بیٹی ’مُنّی‘ بہت باتونی ہے، اس کا بس چلے تو سارا دن باتیں ہی کرتی رہے۔ پیدائش کے بعد اسے گفتگو کا فن سیکھنے میں بس ایک سال ہی لگا ہوگا۔ اس کے بعد سے اس نے اپنی جاگتی زندگی کا ایک لمحہ بھی خاموشی میں ضائع نہیں کیا۔ اس کی ماں…
پہلی رات (افسانہ)
اوائل جنوری کی سرمئی شام جب سیاہ ردا اوڑھ چکی، تب وہ یہاں پہنچا۔ چند گھنٹوں کے اِس سفر میں صدیوں کی بازگشت سنائی دی تھی لیکن اُسے شاید اپنی بھی خبر نہ تھی ۔ پہنچنے کے کچھ دیر بعد قیدِ تنہائی با مشقت کاٹنے کے لیے دو نوالے حلق سے اتار کر بستر ملتے…
ممتا (افسانہ)
کل پھیکے کمیار کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔ سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔۔! جانے کون ملنے آیا تھا۔۔۔؟ میں جانتا تھا پھیکا پہلی فرصت میں آ کر مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔ وہی ہُوا، شام کو بیٹھک میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ پھیکا چلا…