ایک مصری علامتی کہانی!
جس سال ملک میں تبدیلی آئی اور لوگوں نے امید کی کہ اب زندگی بہتر ہو جائے گی، انہی دنوں اس گھر کے حالات بگڑ گئے۔ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں رہا، ماں کی چھاتیاں خشک ہو گئیں اس نے خاندان کے سربراہ سے کہا کہ وہ صورتحال ٹھیک ہونے تک آرام سے…
الٹی شلوار (افسانہ)
“صاب اب میرا کام ہو جائے گا نا۔۔۔“ اس نے دیوار کی طرف رُخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی ”ہاں ہاں بھئی۔۔۔“ میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں ”پھر میں پیسے لینے کب آؤں؟“ دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اور پھر جھٹک کر لپیٹ لیا ”پیسے ملنے تک تمہیں ایک دو…
میرا دوست، میرا دشمن (شاہکار افسانہ)
میں نے اس دوسری ملاقات کی استدعا اس لیے کی ہے، جنرل، کہ مجھے علم ہوا ہے کہ ہمارے درمیان دس دن قبل جو گفتگو ہوئی تھی، اس کی آپ کی جانب سے بہت منصفانہ اور درست رپورٹنگ کے باوجود، میرے اعمال کی یورپین اخبارات نے بہت غلط تشریح کی اور اسے بالکل غلط سمجھا…
دُھوپ (ہندی افسانہ)
”اب ہم ساتھ نہیں رہ سکتے“ ریکھا نہیں جانتی تھی کہ یہ الفاظ کیسے اپنے آپ آج نِکل گئے تھے، جو وِشال تک پہنچنے سے پہلے اُس کے ہاتھ میں پکڑے چائے کے کپ پر ٹہر گئے تھے اور چائے کی اُوپری سطح پر تیر رہے تھے۔ چائے کا کپ اور زِیادہ کانپنے لگا۔۔ شاید…
چہرہ در چہرہ (عربی افسانہ)
وہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ رانوں پر دھرے تھے۔ کرسی کے اوپری حصے نے اس کے آدھے جسم کو گھیرا ہوا تھا۔ وہ بے پردہ تھی۔ اس کے بال چھوٹے اور لباس عمدہ تھا۔ وہ اپنے سامنے پڑی کرسی کو ایسی تیز نظروں سے گھور رہی تھی، جیسے…
انتظار (انگریزی افسانہ)
وہ کمرے میں کھڑکیاں بند کرنے کے لیے آیا، جب ہم ابھی بستر میں ہی تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ بیمار نظر آ رہا تھا۔ وہ کانپ رہا تھا، اس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا اور وہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا، گویا ہر حرکت کے ساتھ اسے درد ہوتا تھا ”شاز،…
خصوصی عدالت (فلسطینی کہانی)
حکومتی اعلان کے مطابق عدالت نے چند مشہور مقدمات کی سماعت کے لیے شہرمیں اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں طے ہوا کہ منتخب دیہات میں عدالتیں لگائی جائیں تاکہ انصاف قائم ہو۔ علاقے کے لوگ اس فیصلے پر حیران تھے۔ انہیں اس بات کی خوشی بھی تھی کہ چلیں ان کے بارے میں بھی…
اعترافِ جرم (مراکشی افسانہ)
میں آپ کو اپنا نام نہیں بتا سکتا۔ نہ ہی وہ دیہات، جہاں اس قصے نے جنم لیا۔۔ کیونکہ وہاں میرے والد ایک عزت دار فرد ہیں، جن سے لوگ خوف زدہ رہتے ہیں۔ میں انہیں شرمسار نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اسی زرخیز زمین میں پیدا ہوئے تھے مگر انہوں نے اپنا مستقبل شہر میں…