سرخ جوتے (افسانہ)
ایک دفعہ کا ذکر ہے ، ایک چھوٹی سی لڑکی تھی، بہت نازک اور خوبصورت، لیکن انتہائی غریب۔۔ اتنی کہ اسے تمام گرمیاں ننگے پاؤں گزارنی پڑتی تھیں اور سردیوں میں اسے لکڑی کے موٹے جوتے پہننے پڑتے تھے، جو اس کی ایڑھیوں کو چھیل کر زخمی کر دیتے گاؤں میں ایک بوڑھی بیوہ…
انیتا
فرنشڈ اپارٹمنٹس کے ایک بڑے بلاک کے سب سے سستے کمرے میں میڈیکل کے تیسرے سال کا طالب علم یعنی کہ اسٹیفین کلچکوف ٹہل ٹہل کر جانفشانی سے ایناٹومی کے بارے میں پڑھ رہا تھا۔ اس جانفشانی کے مارے اس کا حلق خشک ہو رہا تھا اور پسینہ اس کی پیشانی پر چمک رہا تھا…
کابلی والا (افسانہ)
میری پانچ سالہ بیٹی ’مُنّی‘ بہت باتونی ہے، اس کا بس چلے تو سارا دن باتیں ہی کرتی رہے۔ پیدائش کے بعد اسے گفتگو کا فن سیکھنے میں بس ایک سال ہی لگا ہوگا۔ اس کے بعد سے اس نے اپنی جاگتی زندگی کا ایک لمحہ بھی خاموشی میں ضائع نہیں کیا۔ اس کی ماں…
گونگے سنّاٹے (افسانہ)
یہ ایک سچّی کہانی ہے مگر میری گزارش ہے کہ ان کرداروں کو آپ ڈھونڈنے نہیں نکلنا کیونکہ اب وہ وہاں پر نہیں رہتے ہیں۔ نہ جانے ٹرانسفر ہو کر کہاں چلے گئے۔ منوہر کھرے کام تو کسی اور سنٹرل دفتر میں کرتا تھا، مگر عبوری طور پر رہتا تھا کسی اور محکمے کے گیسٹ…
پہلی رات (افسانہ)
اوائل جنوری کی سرمئی شام جب سیاہ ردا اوڑھ چکی، تب وہ یہاں پہنچا۔ چند گھنٹوں کے اِس سفر میں صدیوں کی بازگشت سنائی دی تھی لیکن اُسے شاید اپنی بھی خبر نہ تھی ۔ پہنچنے کے کچھ دیر بعد قیدِ تنہائی با مشقت کاٹنے کے لیے دو نوالے حلق سے اتار کر بستر ملتے…
ممتا (افسانہ)
کل پھیکے کمیار کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔ سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔۔! جانے کون ملنے آیا تھا۔۔۔؟ میں جانتا تھا پھیکا پہلی فرصت میں آ کر مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔ وہی ہُوا، شام کو بیٹھک میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ پھیکا چلا…
ردا (سندھی افسانہ)
میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ اس میں میرا قصور نہ تھا۔ وہ واقعی کافی بدل چکا تھا۔ ملا بھی برسوں بعد تھا۔ اس کے گالوں میں کھڈے پڑ گئے تھے۔ بال اجڑے سے تھے، جن میں شاید کئی دنوں سے اس نے تیل نہیں ڈالا تھا۔ اس کا رنگ، دھوپ میں پڑے کسی پتے…
م سے مرد (افسانہ)
”ف سے فوارہ، ق سے قلم، ل سے لٹو، م سے مرد۔۔۔“ بانو کی نظریں قاعدے میں بنے مرد کے اوپر ٹک گئیں۔۔ سوٹ پہنے، ٹائی لگائے، سلیقے سے جمے ہوئے بال بنائے، م سے مرد۔۔۔۔ اس کی زبان بار بار ’م سے مرد‘ کی گردان کرتی رہی۔ ”بانو بیٹا، آگے سبق یاد نہیں ہے؟“…