م سے مرد (افسانہ)
”ف سے فوارہ، ق سے قلم، ل سے لٹو، م سے مرد۔۔۔“ بانو کی نظریں قاعدے میں بنے مرد کے اوپر ٹک گئیں۔۔ سوٹ پہنے، ٹائی لگائے، سلیقے سے جمے ہوئے بال بنائے، م سے مرد۔۔۔۔ اس کی زبان بار بار ’م سے مرد‘ کی گردان کرتی رہی۔ ”بانو بیٹا، آگے سبق یاد نہیں ہے؟“…
کانٹوں میں الجھی چنری
مجھے وہ دن اچھی طرح یاد تھا، جب عالیہ پیدا ہوئی تھی۔ اس کی دادی ہمارے گھر بتانے آئی تو دادی اماں نے اسے جوڑا کپڑوں کا اور پچاس روپے دیے تھے۔ وہ کچھ دیر بیٹھی اور چلی گئی۔ یہ واقعہ میرے لئے قطعی اہم نہ ہوتا، اگر میں عالیہ کے باپ الطاف کی شادی…