دَم (منتخب افسانہ)
رات کی تاریکی ماحول کی سنگینی میں گھل مل گئی۔ تاریکی، سناٹا اور چاروں کھونٹ گونجتی ہوئی خاموشی کی چیخ، جو بند کمرے میں بھی یوں گھسی آ رہی تھی جیسے اسے روک ٹوک کی پروا نہ ہو۔ خاموشی کی موجودگی میں کمرے میں پھر اور کس چیز کا گزر ہو سکتا تھا۔ ابھی ابھی…
فریبِ نظر (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
آدمی مچھلیوں کی طرف متوجہ تھا۔ مچھلیاں شیشے کے پیچھے ساکت اور معلق تھیں۔ شیشے کے عقب میں ان کے لیے پتھر کی سِلوں کے درمیان ایک تالاب بنایا گیا تھا جو کافی وسیع تھا۔ اس کی منڈیریں ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر واقع تھیں اور یہ فاصلہ نیم تاریکی میں کہیں آگے…
ماں پڑھتی ہے (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کئی مہنوں بعد گاؤں آیا ہوں۔ماں یہاں اکیلی رہتی ہے۔ آج گھر کا دروازہ کھلا ہے، ورنہ تو ماں صبح سویرے دروازہ بند کر کے باہر کا کام نمٹانے چلی جاتی ہیں۔ صبح کا سارا وقت حویلی میں گزرتا ہے۔جانوروں کو چارا ڈالتے، گائے کا دودھ دھوہتے، گوبر پھینکتے۔ اِس سمے بھی…
شرط (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ماسکو کی اونچی سوسائٹی کی پارٹی عروج پر تھی۔ میزبان ایک بینک کا مالک تھا۔ مہمانوں میں جرنیلوں، سیاست دانوں اور اعلٰی افسروں کے علاوہ ایک نوجوان وکیل بھی شامل تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ گفتگو نہ جانے کیسے سزائے موت اور عمر قید کی قانونی باریکیوں پر پہنچ…
کنجوس جواری (افسانہ)
اس بات کا حتمی اندازہ لگانا تو شاید ممکن نہیں کہ کریم بخش کو کنجوسی کی عادت کب سے پڑی تھی، دراصل بخیلی کی اپنی ایک دنیا ہے جس میں آدمی ایک بار داخل ہو جائے تو باہر نکلنا ممکن نہیں رہتا، پھر چاہے ساری دنیا اس آدمی کو بُرا بھلا کہتی رہے۔ کریم بخش…
ایک مرتی جھیل کا دکھ (افسانہ)
میں ایک جھیل ہوں، جس نے اپنی گہرائیوں میں زمانوں کا عکس محفوظ کر رکھا ہے۔ میرے کناروں پر زندگی کے کئی رنگ کھلے، کئی مناظر بنے اور بکھرے، مگر آج میں تیزی سے خشک ہو رہی ہوں، جیسے مرنے کے قریب ایک بوڑھا جسم اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو۔ میں زمانوں سے قائم،…
اداکار کی موت (منتخب افسانہ)
شیانوف ایک لحیم شحیم اداکار تھا۔ اداکاری کے فن میں نہ سہی اپنی جناتی ضخامت کی وجہ سے تھیٹر میں خاصا کامیاب بھی تھا اور سادہ لوح طبیعت کے باعث مقبول بھی۔ دوسرے اداکار اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے۔ کوئی اس کو گینڈا کہتا۔ کوئی سرکاری سانڈ۔۔ لیکن سب اسے پیار…
پندرہویں سواری (منتخب اردو افسانہ)
ان لاکھوں بھاگتی دوڑتی گاڑیوں میں ایک چودہ مسافروں کے لیے بنی گاڑی میں وہ پندرہویں سواری تھا، جو اکڑوں ہو کر بیٹھا تھا۔ ’تو کیا میں یہاں اتر جاؤں؟‘ اس نے سوچا۔ ’لیکن اگر میں اتر گیا تو پھر مجھے گھنٹوں انتظار کرنا پڑے گا۔‘ اسے محسوس ہوا کہ اس کی سانس رُک…