کھنڈر سے برآمد ہوئی اک کہانی (افسانہ)
کہتے ہیں کہ ایک وادی تھی، جو دو گاؤں کے بیچوں بیچ پھیلی ہوئی تھی۔ یہ گاؤں اپنی زمین کی زرخیزی، اپنی قدیم روایات اور ایک دوسرے سے نفرت کے لیے مشہور تھے۔ پہلا گاؤں ’کھیت گاؤں‘ اور دوسرا ’جبل گاؤں‘ کہلاتا تھا۔ دونوں کے درمیان ایک سرسبز میدان تھا، جو کبھی ان…
کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔۔ (افسانہ)
شہر کا آسمان سرمئی تھا، جیسے حقیقت اور فریب کے درمیان کشمکش جاری ہو۔ لوگ سڑکوں پر چلتے، اپنی دنیا میں مگن تھے، لیکن ان کی نظروں میں ایک عجیب سا خالی پن تھا۔ اس شہر کا ہر کونہ محرومی کی ایک داستان سنا رہا تھا، لیکن وہ داستانیں کہیں دفن تھیں، حکومت کے…
کٹھ پتلی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
مرد کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا: ”تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟“ عورت نے پہلے اپنے بال سر کے اوپر جمع کیے، پھر انہیں اپنے شانوں پر گرا دیا اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔ اس نے پاؤڈر کا ڈبہ اٹھایا اور اپنا مخصوص پاؤڈر چہرے…
جوتے (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
مرکن نامی ایک پیانو کے سر ملانے والا، تازہ منڈے ہوئے زرد چہرے، ناک پر نسوار کا داغ اور کانوں میں روئی ٹھونسے، ہوٹل کے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا اور کپکپاتی آواز میں چلایا: ”خادم! سیمیون۔۔۔!“ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر شاید آپ سمجھتے کہ اس پر چھت…
ہوشیار بُڑھیا (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
کام شروع کرنے سے پہلے اس نے اپنے تینوں ساتھیوں کو ڈنر پر بلایا۔ الزامور خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ ساتھیوں کو خوش کیے بغیر ان سے کام لینا کس قدر مشکل ہے۔ ”دوستو!“ اس نے اپنا جام اٹھایا، ”ہم لوگوں نے اپنے پلان کا ہر زاویے سے جائزہ لیا ہے، کہیں جھول نہیں…
زمیں زادے (افسانہ)
رات کی سیاہی اپنی چادر پھیلا چکی تھی اور چہار سو مہیب خاموشی کا راج تھا۔ ریڈ انڈین قبیلے کا ایک بوڑھا شخص ایلان، قدیم جنگل کے کنارے اداس بیٹھا تھا، جہاں کبھی اس کا قبیلہ آزاد گھومتا تھا۔ یہ جنگل اب جدید دنیا کے تیز رفتار قدموں کے نیچے دب چکا تھا۔ یہاں کی…
چھوٹی اداکارہ بڑی کہانی (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
کلے پول میں پندرہ ہزار لوگ رہتے تھے لیکن ان میں صرف ایک اداکارہ تھی، جس کی زنانہ ٹوپیوں کی دکان تھی۔ میرا نام سپارک ہے، میری گھڑیوں اور جیولری کی دکان مِس پوریٹس کی دکان کے سامنے پندرہ سال سے ہے۔ اس تمام عرصے میں وہ مجھ سے کبھی نہیں بولی اور میرا نہیں…
دستک (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
آسمان پر سویرے ہی سے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، ہوائیں تھمی ہوئی تھیں اور یہ قدرے سرد اور بے رونق دن انہی کہریلے دنوں میں سے ایک تھا جب بہت دیر سے بہت نیچائی پر معلق بادلوں کو دیکھ کے خیال ہوتا ہے کہ بارش بس اب ہونے ہی کو ہے، پر ہوتی نہیں۔…