تاریخ نہ سہی، کیلنڈر ہی سیدھا کر لو
1950 کی دہائی کے پاکستان میں 23 گزیٹڈ چھٹیاں (ہالیڈیز) ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سے دو سیکولر چھٹیاں یکم جنوری، بینک ہالیڈے تھیں۔ دس مسلم تہواروں (شبِ معراج، شبِ برات، جمعۃ الوداع، عیدالفطر، حج، عید الضحٰی، یکم محرم، عاشورہ، آخری چہارشنبہ، عیدِ میلاد النبی)…
کراچی کی باتیں
اللہ سائیں کے فضل و کرم سے ہم نے انگریز کو ہندوستان چھوڑ کر جانے سے پہلے برصغیر کے بٹوارے پر راضی کر لیا۔ انگریز نے ہندوستان چھوڑنے سے پہلے ہندوستان کا بٹوارا کیا۔ اس طرح ہمیں پاکستان ملا، بلکہ ہم نے انگریز سے پاکستان حاصل کیا۔ انگریز کو برصغیر کے بٹوارے…
کراچی کے کچھ قصے، کچھ کہانیاں
تاریخ میں کئی ممالک سے وابستہ حکایتیں، شکایتیں، حماقتیں، تقریباً ایک جیسی لگتی ہیں۔ حالانکہ تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی طور پر ایسے ممالک ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم مفتوح ملک کا حلیہ بگاڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ مفتوح کے معنی تو جانتے ہیں نا آپ؟…
KURRA CHEE
یہ ہندوستان میں ہماری آمد اور ہندوستان پر چھا جانے سے پہلے کی بات ہے۔ تب ہندوستان اقوام عالم کے لئے دلکش اوردلفریب ملک تھا۔ سب کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔ دنیا کے اس خطہ میں ازلی اور اوائلی کشش تھی۔ ہندوستان ایک تو دولتمند اور قابلِ دید ملک تھا، دوسرے یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط73)
کھانا کھانے کے بعد میں جھیل کے کنارے اکیلا ہی چلا آیا ہوں، گہری اور وسیع جھیل میں ہلکی ہلکی موجیں دھیمے سروں میں گنگناتی محسوس ہو رہی ہیں۔ کشتیاں سطح آب پر بگلوں کی طرح سر اٹھائے محو سفر ہیں، دور مچھلیاں پکڑنے والے مچھیرے اپنے جال تھامے اونچے سروں میں گا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط70)
۔۔۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو لگتا ہے مستقبل قریب میں یہاں کوئی بھی ملاح نہ رہے گا اور 200 سال پرانی یہ ثقافت بھی شاید دیکھنے کو نہ رہے گی۔ ہم روز بروز مشکل ہوتے حالات میں 200 سال پرانی اپنے بزرگوں اور سندھو کی ثقافت زندہ رکھنے کے لئے کب تک کو شاں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط61)
”قدیم دور کا ’اروڑ‘ یا ’بکر‘ یا ’سکر‘ اور دور حاضر کا سکھر، سندھ یا وادی مہران کا تیسرا بڑا شہر میرے مغربی کنارے آباد ہے۔ سندھی زبان کے لفظ سکھر کا مطلب ہے ”اعلیٰ“۔ اس شہر کا معروف بھی ہے ”دریا ڈنو“ یعنی ”دریا کا تحفہ“ اگر میں ادھر سے نہ بہتا تو یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط60)
ہم کشمور اور گڈو بیراج کو پیچھے چھوڑتے روہڑی کو رواں ہیں۔بایک سو ساٹھ (160) کلو میٹر کی یہ مسافت انشاءاللہ ہم اڑھائی گھنٹے میں طے کریں گے۔سندھو لمبی خاموشی توڑتے بولا؛ ”سنو سیاحو! کیا تم میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ مجھ پر کُل کتنے بیراجز تعمیر کئے گئے…