سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط31)
بابو سر ٹاپ کے برفیلے میدان سے جنم لینے والی شفاف برفیلے پانی کی ’ٹھک ندی‘ کے پل سے گزر رہے ہیں۔ کل کے اس گمنام مقام کو آج نام بھی دیا گیا ہے تو ’زیرا پوائنٹ‘۔گمنام کو زیرا پوائنٹ کہنے سے فرق نہیں پڑتا مگر یہ اس شاہراہ کا نیا اہم اسپاٹ بن گیا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط25)
اسکردو، جگلوٹ، داسو کی تھکا دینے والی مسافت طے کرنے میں تقریباً آٹھ (8) گھنٹے لگیں گے (اب جبکہ نئی سڑک زیر تعمیر ہے، یقیناً یہ فاصلہ کم وقت میں طے ہوگا) جبکہ گلگت اسلام آباد کی مسافت سولہ گھنٹے کی ہے البتہ ہوائی جہاز راولپنڈی سے یہی مسافت پچاس (50) منٹ…
پیر پاگارو کے حر: جنگِ آزادی یا بغاوت؟
”وہ آئے۔ انہوں نے بندوقیں تانیں، گاؤں کے مردوں، عورتوں اور بچوں کو گھروں سے باہر نکال کر ایک طرف کیا۔ پھر ہماری جھونپڑیوں اور کچے گھروں پر مٹی کا تیل چھڑک کر ان کو آگ لگائی اور ہمیں ٹرکوں میں بھر کر لے گئے۔ اور پھر ریل میں۔ ’راجہ ریل‘ میں۔ اور لا کر…
عزت اور غیرت سے بھری تاریخ میں جو سبق ہم نہیں سیکھ پاتے
عزت آنی جانی چیز ہے، بندہ ڈھیٹ ہونا چاہیے۔ میٹرک کے فوراً بعد اپنے پٹھان دوست کو میں یہ اصول رٹوانے اور اُسے اِس کا عملی پائجامہ چڑھوانے کی کوشش کرتا تھا اس بے چارے کا ماتھا گھبراہٹ میں پسینے سے چمک جاتا تھا، کان شرمندگی سے کبھی لال ہو رہے ہوتے، بعض…