سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط77)
ہماری کوتاہیاں، غلطیاں اور کمزوریاں ہی سندھو کی تباہی کی وجہ ہوں گی۔ اگر سندھو رک گیا تو یہ حضرت انسان کی بھی بربادی ہوگی۔یہ ہے میرے دوست کی داستان حیات۔۔ دلچسپ، چشم کشا، سنسی خیز اور شایدلرزہ خیز بھی۔۔ میں یہ کہانی قلم بند کر چکا تو مجھے سندھو کی آواز…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط72)
”ہاں دوست! تم اپنے پڑھنے والوں کو مکلی کے قبرستان کے بارے بھی بتاؤ۔ سندھ کی دھرتی کا یہ اہم تاریخی قبرستان یونیسکو ورلڈ ہیرٹیج“ کا حصہ ہے۔“ میرا داستان گوکہنے لگا۔ مجھے پہلی بار اپنے داستان گو کی آواز کمزور سی محسوس ہوئی ہے۔ ڈیلٹا کے قریب پہنچ کر اس کی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط61)
”قدیم دور کا ’اروڑ‘ یا ’بکر‘ یا ’سکر‘ اور دور حاضر کا سکھر، سندھ یا وادی مہران کا تیسرا بڑا شہر میرے مغربی کنارے آباد ہے۔ سندھی زبان کے لفظ سکھر کا مطلب ہے ”اعلیٰ“۔ اس شہر کا معروف بھی ہے ”دریا ڈنو“ یعنی ”دریا کا تحفہ“ اگر میں ادھر سے نہ بہتا تو یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط53)
سفر شروع کئے گھنٹہ بھر گزر چکا ہے۔ سورج اوپر اٹھ آیا ہے۔ آفتابی کرنوں میں سندھو کی سطح پر جیسے سفید موتیوں کی لہریں اتار دی ہیں۔ ہمارے سروں سے پرندوں کی بڑی ڈار اڑتی ہم سے ذرا دور سندھو کے سینے پر چمکتے پانیوں پہ اتر گئی ہے۔ چاچا گاماں بولا، ”سائیں! یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط52)
اس سے پہلے کہ کوئی اور بولتا میرا دوست سندھو بول پڑا، ”بلائنڈ ڈولفن جسے سندھی ’بِلھن‘ کہتے ہیں، میرا اور اُس کا ساتھ ازل سے ہے۔ کہتے ہیں یہ مچھلی تبت سے نکلے کچھ اور دریاؤں میں بھی پائی جاتی تھی لیکن اب صرف مجھ میں اور دریائے گنگا میں ہی باقی بچی ہے۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط45)
ہم پیدل ہی اس پل سے گزر کر اٹک خورد ریلوے اسٹیشن پہنچے ہیں۔ سر سبز پہاڑوں میں گھرا یہ ریلوے اسٹیشن انیسویں صدی کے ولایت کا کوئی اسٹیشن معلوم ہوتا ہے۔ مجھے لمحہ بھر کے لئے محسوس ہوا میں اٹھارویں صدی کے ’ولیم وڈزورتھ‘ کے ولایت میں ہوں۔ پرسکون ماحول، پلیٹ…
سندھو سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط43)
رات ہمارے گرد تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آسمان پر ابتدائی شب کا چاند، اس کی کرنیں گیندی شفق سے پھسل پھسل کر زمین پر اس طرح پھیل رہی ہیں جیسے زمین کی سطح پر کسی نرم و نازک پھول کی پنکھڑیاں بکھیری ہوں۔ ہوا کے جھونکوں کی سر سراہٹ ایسے لگ رہی ہے جیسے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط35)
سندھو کچھ خاموشی کے بعد داستان آگے بڑھانے لگا ہے، ”ہم پٹن سے تقریباً اڑتیس (38) کلو میٹر دور ’بشام‘ پہنچے ہیں۔ شانگلہ کا ضلعی ہیڈ کوراٹر ایک اہم تعلیمی و تجارتی مرکز ہے۔ آج کے سوات اور رگ وید کا ’اودیانہ‘۔ مقدونیہ کا سکندر بھی یہاں فوج سمیت اترا تھا۔…