ٹیچر اور اچار (مزاح/کالم)
ہمارے گورنمنٹ اسکول میں ایک نیا ٹیچر، سر جمیل، ٹرانسفر ہو کر آیا۔ جوائننگ کے فوراً بعد ہیڈ ماسٹر صاحب نے حسبِ روایت اُنہیں اسکول کے واٹس ایپ گروپ میں شامل کر لیا۔ شام کو سر جمیل نے پہلا ہی پیغام گروپ میں بھیج دیا، ایک اشتہار: ”کراچی والوں کے مشہور اچار!…
ندی اور بوڑھا (سنہالی ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے دس یا اس سے بھی کچھ زیادہ سالوں سے، ہر دن بوڑھا زیادہ تر وقت ندی کے کنارے بیٹھا رہتا۔ اُس کی عمر بیاسی برس تھی اور اب اُس نے کام کاج چھوڑ دیا تھا۔ ندی، بالکل اُس کے گھر کے سامنے تھی اور کچھ صدیاں پُرانی تھی۔ اُس کی ساری زندگی اسی ندی…
’سندھو جی گونج‘: سندھی سینیما کی نئی بازگشت
فلم ’سندھو جی گونج‘ میں سندھو دریا کے گرد گھومتی چار کہانیاں اور ان سے جڑے کردار سبھی میں سندھو بہتا، ٹھہرتا، تھمتا اور کہیں تھکتا نظر آتا ہے۔ میں نے فلم پر جب لکھنا چاہا تو فلم ناقد اور ’سندھو جی گونج‘ کے ڈسٹری بیوٹر کامران جاوید نے مختصر دورانیے کے…
کہانی کار کی کہانی، کہانی کی زبانی (افسانہ)
میں کہانی ہوں۔ میں نے کتنی ہی زندگیاں تراشی ہیں، کتنے ہی خواب بُنے ہیں، کتنی ہی تقدیریں سنواری ہیں۔ میری سطروں میں محبت کے چراغ جلے، غموں کے سائے دراز ہوئے، اور بغاوت کی صدائیں گونجیں۔ میں نے ظالموں کو گرایا، مظلوموں کو اٹھایا، وقت کو پلٹا، زمین کو آسمان…
ایک ٹیلی وژن کی موت (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
پرماتما کی بے پناہ مہربانی سے آج میں ساڑھے تین منزلہ کوٹھی کا مالک ہوں۔ کبھی ایک معمولی ملازم کی حیثیت سے دبئی گیا تھا، صنعتکار اور کروڑپتی بن کر واپس آیا۔ میری کئی فیکٹریاں ہیں، گھر میں خوبصورت اور نیک بیوی ہے، لائق بچے ہیں، نوکر چاکر ہیں، دروازے پر دو…
پھسلتے ہوئے چہرے
اگر یہ بات اصولی طور پر تسلیم کر لی جائے کہ محبت کرنا، محبت کیے جانے سے بہتر ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ کامیاب ترین قسم کی محبت وہ ہے جس کی جوابی کارروائی کی کوئی توقع ہو نہ امید، یعنی یک طرفہ محبت۔۔ اور پھر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ…