کہانی کار کی کہانی، کہانی کی زبانی (افسانہ)
میں کہانی ہوں۔ میں نے کتنی ہی زندگیاں تراشی ہیں، کتنے ہی خواب بُنے ہیں، کتنی ہی تقدیریں سنواری ہیں۔ میری سطروں میں محبت کے چراغ جلے، غموں کے سائے دراز ہوئے، اور بغاوت کی صدائیں گونجیں۔ میں نے ظالموں کو گرایا، مظلوموں کو اٹھایا، وقت کو پلٹا، زمین کو آسمان…
یہ مرد (افسانہ)
کسی قسم کے احساس کے بغیر گوبند نے چپ چاپ لکشمی کی چارپائی کے اردگرد پردے لگا دئیے، پردے۔۔۔ جو لکڑی کے فریم میں سفید کپڑا لگا کر بنائے گئے تھے اور حسبِ خواہش کھولے یا بند کیے جا سکتے تھے۔ تب مس سلطانہ اور بکیٹی تیز تیز چلتی ہوئی آئیں اور ان کے بعد…
امن کا طالب (افسانہ)
(اونچے اونچے محلوں کی دلفریبی میں بدامنی کو مت ڈھونڈ! ان تنگ و تاریک گلیوں میں جا، جنہیں بھوک، اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔) سیاہ لبادے والا، بات بات کی آہٹ لیتا ہوا شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اجین کے اونچے مکان آدھی رات کے سناٹے میں…
کاکڑاں کا تَیلی
’’اڑھائی روپے!‘‘ مولو نے طنز سے سر ہلا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا، ان نگاہوں سے جو گویا کہہ رہی تھیں کہ کم بخت تانگے والے کی عقل شاید گھاس چرنے چلی گئی ہے۔ ابھی مشکل سے آٹھ ساڑھے آٹھ کا وقت ہوگا، لیکن دن پہاڑ سا نکل آیا تھا۔ سورج عین سر پر…
محبت (افسانہ)
فلسفی نے اپنے نوجوان دوست سے کہا۔۔۔ بلا سوچے سمجھے تاریکی میں مت کودو۔ نوجوان ہنسا۔۔۔ بولا۔۔۔ محبت وہ تاریکی ہے، جس میں کودتے وقت سمجھ اور سوچ کی قوتیں سلب ہو جاتی ہیں اور فہم و فراست جواب دے جاتے ہیں۔ کانجلی بھائی آنند! تم مزے میں ہو، یہ جان کر خوشی…
سرخ آسماں
اس تصویر میں، میں اور میرا تین سالہ بیٹا زامران بارش کے بعد تھدو ندی کے کنارے کھڑے ہیں۔ یہ تصویر بے خبری میں کھینچی گئی ہے، میں اور زامران مکالمہ کر رہے ہیں۔ وہ بہ ضد ہیں کہ ندی میں نہانا ہے۔ شام کا وقت ہے موسم میں ہلکی سی خنکی ہے اور میں…
حمید بلوچ: وہ نوجوان جس نے ’کرائے کے سپاہیوں‘ کی بھرتی کے لیے آئے عمانی کرنل پر گولی چلائی
صبح نو یا دس بجے کا وقت تھا۔ نوجوان قطار میں کیمپ کے باہر موجود تھے، جن کو ایک عمانی فوجی افسر نے منتخب یا مسترد کرنا تھا مکران ریجن میں یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔ اس سے قبل بھی اسی طرح نوجوانوں کا انتخاب کیا جاتا رہا تھا اچانک دو فائر…