یورپی سامراج نے ’تاریک براعظم‘ پر کیسے قبضہ کیا؟
افریقہ کے بارے میں یورپ کے مورخوں اور دانشوروں کا یہ خیال تھا کہ ’یہ ایک تاریک براعظم‘ ہے، جس کی نہ کوئی تاریخ ہے اور نہ تہذیب۔۔‘ اس لیے، جب انہوں نے افریقہ کے براعظم کی طرف توجہ دی تو ان کے تین مقاصد تھے: – مقامی زمینوں پر قبضہ کر کے مقامی باشندوں…
تاریخ دوراہے پر
برصغیر پاک و ہند میں جب فرقے وارانہ جذبات نے سیاست کو متاثر کیا تو اس کے نتیجے میں ہندوتوا اور دو قومی نظریہ وجود میں آیا۔ ہندو اور مسلمان دو قوموں میں تقسیم ہو گئے۔ اس ماحول میں تاریخ نویسی بھی متاثر ہوئی، سب سے پہلے جیمز مل نے اپنی کتاب ‘‘A History of…
ابوالقاسم ’نمکین‘: وہ بدقسمت کردار، جس کی یادگار پر اس سے متعلق کچھ نہیں لکھا!
زندگی کے دھارے پر وقت کی چلتی کشتی بہت ہی کم گھاٹوں پر رکتی ہے۔ گزرے وقتوں کے ان خشک دھاروں کے کناروں پر اگر ہم اپنا سفر کریں تو وہ وقت کی کشتی جہاں جہاں رکی، جہاں جہاں اس نے اپنے لنگر گرائے، جہاں جہاں اس کے شاندار بادبانوں نے آسمان پر بہتے بادلوں…
بازاری کلچر
بازاری کلچر کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ یہاں جو زبان بولی جاتی تھی، وہ اشرافیہ کی زبان سے مختلف تھی۔ اشرافیہ کی عام بول چال میں شائستگی اور شگفتگی ہوتی تھی اشرافیہ کے پاس چونکہ مال ودولت اثرورسوخ اور ذرائع ہوتے ہیں، جن کی مدد سے وہ ادب، آرٹ، موسیقی،…
تقسیم ہند کے دوران درجنوں جانیں بچانے والے مسلمان، ہندو اور سکھ
’15 اگست 1947 سے ہندوستان میں دو آزاد مملکتیں قائم کی جائیں گی جو بالترتیب بھارت اور پاکستان کے نام سے جانی جائیں گی۔‘ یہ برطانوی پارلیمان سے منظور شدہ اور پھر تاج برطانیہ کی رضامندی سے قانون کی شکل اختیار کرنے والے انڈین انڈپینڈنس ایکٹ 1947 کے تیسویں…
تقسیم کے پچھتر برس بعد بچھڑے دو بھائیوں کے ملنے کی کہانی
یہ دونوں بھائی 1947ع میں، جب بچھڑے تھے تو بہت چھوٹے تھے۔ اب پچھتر برس بعد جب ملے ہیں تو آنکھوں کی چمک تک ماند پڑ چکی ہے اور چہرے جھُریوں سے بھر چکے ہیں۔ ملاقات کی خوشی کے آنسو دونوں کی آنکھوں سے ٹپک رہے تھے تقسیم لے بعد سکہ خان وہیں بھارت میں…
عشروں سے منتظر آنکھیں اپنے گاؤں دیکھنا چاہتی ہیں
تقریباً ڈیڑھ برس پہلے ارادہ باندھا تھا کہ ان بزرگوں کی یادوں کو ریکارڈ کیا جائے، جنہوں نے سن 1947 کے بٹوارے اور المناک ہجرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، اپنے جسموں اور روح پر جھیلا ہو تقسیم کی اَن کہی کہانیوں کو لوگوں تک پہنچایا جائے۔ اب تک پاکپتن اور بہاول…
’نفرت کی لاٹھی توڑو، پیار کرو‘ گلی گلی 1857 کا جذبہ ابھارتی بھارتی پروفیسر
وہ جب صبح گھر سے نکلتی ہیں تو ان کے ہاتھ میں کتابچوں کی گڈیاں دیکھی جا سکتی ہیں، جو اس امید پر لکھنؤ کی گلیوں میں تقسیم کرتی ہیں کہ مذہبی تقسیم سے دوچار بھارت ایک بار پھر اس سے نکل آئے جیسا کہ انیسویں صدی میں متحد ہوا تھا اناسی سالہ روپا ریکھا…