کھنڈر سے برآمد ہوئی نامعلوم شاعر کی ایک نظم
امر گل شہر کے بیچوں بیچ ایک پرانا برگد تھا۔ اس کی جڑوں میں مٹی نہیں، مہر شدہ سرکاری فائلیں دبی تھیں جن میں انسانوں کی خاموشی لپٹی تھی۔ عجیب برگد تھا جس کے پتے زرد نہیں ہوتے تھے، صرف رنگ بدلتے تھے: کبھی آئینی سبز، کبھی قانونی نیلا، کبھی اقتدار کا سنہری۔…
یہاں غربت کے کفن پر ترقی کا اشتہار چَھپتا ہے۔۔
بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلتے تھے، جس میں ایک اور پھر دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا، جو اس وقت ابھی محض ٹھینگا ہی ہوا کرتا تھا، کسی کو دکھا کر ترنم سے کہتے تھے، ”اسے کھا لو، اسے رکھ لو۔۔“ آج یہی کھیل ہمارے ساتھ حکمراں اشرافیہ، ایلیٹ کلاس کھیل رہی ہے جو اعداد و…