Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

urdu-poetry-amar-gul
ادباہم ترینتازہ ترین

کھنڈر سے برآمد ہوئی نامعلوم شاعر کی ایک نظم

By Akhtar Rasool
نومبر 9, 2025 3 Min Read
0

امر گل

شہر کے بیچوں بیچ ایک پرانا برگد تھا۔
اس کی جڑوں میں مٹی نہیں، مہر شدہ سرکاری فائلیں دبی تھیں
جن میں انسانوں کی خاموشی لپٹی تھی۔
عجیب برگد تھا
جس کے پتے زرد نہیں ہوتے تھے،
صرف رنگ بدلتے تھے:
کبھی آئینی سبز،
کبھی قانونی نیلا،
کبھی اقتدار کا سنہری۔

دن کی روشنی میں
اس برگد کے پتے
انسانی کھوپڑیوں کی طرح نظر آتے تھے
اس لیے فیصلہ کیا گیا
کہ شہر میں دن پر پابندی عائد کر دی جائے۔۔

اک روز شہر کے چوراہے پر
ڈھول بجاتے نقارچی نے اعلان کیا،
”ہم آپ کی حفاظت کے لیے
شہر میں رات کو نافذ کر رہے ہیں!“
کھوپڑی کی طرح نظر آتے پتوں سے
ڈرے ہوئے عوام تالیاں بجانے لگے۔

عوام کی تالیوں سے خوش ہو کر
مابدولت نے انہیں
رعایا کے درجے پر فائز کر دیا۔۔
تاکہ فائز کو بھی
اس کو حقِ نمک ادا ہو جائے۔۔
حقِ نمک نے
شہر کے حلق کو کھارا کر دیا
شہر بے چین ہو گیا
تو وضاحتوں کی شیرینی میں لپٹی
خاموشی تقسیم کر دی گئی۔

برگد کی چھاؤں میں تین کردار بیٹھ گئے،
ایک، جو ہر روز ایک اینٹ اٹھا کر
دیوار میں چن دیتا تھا،
”میں غریب ہوں، میرا نام بھوک ہے۔“
دوسرا، سونے کی روشنائی سے
آئین پر لکیریں کھینچتا تھا،
”میں حاکم ہوں، میرا نام ترمیم ہے۔“
تیسرا، مہر اٹھائے کھڑا تھا،
”میں نگہبان ہوں، میرا نام اختیار ہے۔“

منصف، دھڑا دھڑ مہریں ثبت کرتے جاتے تھے
تاکہ شہر میں کوئی بھی فیصلہ
غیر قانونی اور غیر آئینی نہ رہے۔

شہر مسلسل اندھیرے سے بے چین ہونے لگا۔۔
تو ایک دن ترمیم نے بھوک سے کہا،
”ہم تمہارے لیے ایک نیا دن لکھ رہے ہیں۔
ستائیس پردوں میں لپٹا ہوا دن
یہ دن تمہاری قسمت بدل دے گا۔“

بھوک نے معصومیت سے سوچا:
’میری قسمت…
یا تمہاری دیوار کی اونچائی؟‘
لیکن پوچھنے کی ہمت نہ کر سکی۔

ترمیم نے خاموشی کو حمایت سمجھا
اور مسکرا کر قلم گھما دیا،
اختیار نے مہر لگا دی۔
تھپ پ۔۔۔۔ دھات جیسی آواز آئی۔
ایسا لگا، جیسے
کسی گردن پر آخری کیل ٹھونکی گئی ہو۔

اور پھر غریب کو
اس برگد کی چھاؤں کے کنارے پر دھکیل دیا گیا۔

پھر بھی شہر کے لوگ جشن مناتے رہے:
”جمہوریت زندہ باد!“

برگد کے پتے پھڑپھڑاتے ہوئے کبھی سرگوشی کرتے:
”جڑیں اب قانون نہیں پیتیں، خون پیتی ہیں۔“

عدالت کا دروازہ ہلکا سا چرچرا کر کھلا،
ایک بھاری، گونجتی ہوئی آواز آئی،
”ہم فیصلے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔“

دور خامشی نے سرگوشی کی،
وہ اصول جو کل ایک فائل کے نیچے دبے تھے،
آج کسی اور دسترخوان پر رکھے گئے ہیں،
اور کل شاید کسی مٹھی میں بند ہوں گے۔۔

منصف نے دھاڑ کر کہا،
”یہاں قانون آنکھ کے اشارے کی راہ پر چلتا ہے،
تمہارے بھلے کے لیے اندھیرا پھیلاتا ہے
تاکہ بے نور آنکھیں
اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہو سکیں۔۔
یہ اندھیرا بہت مفید ہے،
تم نہیں سمجھو گے کم عقلو،
سمجھنے کی کوشش کرو
یہ اندھیرا ہی دراصل انصاف ہے۔۔“

پھر جیسے کوئی صفحہ پلٹا گیا،
اور اس صفحے پر حروف
چمگاڈریں بن کر اڑنے لگے۔۔
ان کی آواز ایسی تھی،
جیسے فیصلوں کا موسم بدلنے کا اعلان کرتی ہو۔

ایک رات بھوک نے دیکھا
کہ اس کے ہاتھ اینٹیں اٹھاتے اٹھاتے
چھلنی ہو چکے ہیں۔۔
دیوار بہت اونچی ہو چکی ہے،
آسمان ڈھک چکا ہے
اور برگد کی چھاؤں میں اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

اسی رات عدالت کے دروازے پر
بارش کا ایک قطرہ آ کر ٹوٹا۔
پانی نہیں تھا،
ایسا لگ رہا تھا، جیسے
کسی کا صبر پگھل کر بہہ گیا ہو۔

بھوک نے آخری اینٹ پھینکتے ہوئے،
زور سے ایک آہ کھینچی۔۔

تب ایک خوفناک آواز گونجی،
”خبردار۔۔۔ آہ غیر آئینی ہے۔“

Tags:

Artificial legalityAuthoritarian amendmentsAuthoritarian governanceAuthoritarian symbolismBroken justice systemBuried TruthCivil helplessnessCoerced silenceCommand justiceCommand-driven justiceConstitution in chainsConstitutional betrayalConstitutional decayConstitutional facadeConstitutional manipulationConstitutional shadowsControlled darknessControlled democracyControlled existenceControlled judiciaryControlled narrativesControlled voicesDarkened societyDeceptive reformsDeep state influenceDisguised authoritarianismDisguised controlDominating institutionsElite dominanceElite protectionismElite-centered policyExploitative governanceExploited citizensFear politicsFear-based politicsFictional freedomFictional justiceFictional legalityFictional transparencyHidden AgendasHidden powerIllusion of reformInstitutional blindnessInstitutional captureInstitutional decayInstitutional imbalanceInstitutional paralysisJudicial compromiseJudicial intimidationJudicial weaknessJudiciary under pressureLegal illusionsLegal suffocationLegalized inequalityLegalized oppressionLegislative distortionManipulated lawsManipulated NarrativesManipulated reformsManufactured consentManufactured darknessManufactured justiceManufactured loyaltyNational disillusionmentOppressed poorOppressive structurePerformative democracyPolicy distortionPolitical ManipulationPolitical puppetryPolitical SymbolismPower Abusepower consolidationPower hierarchypower imbalancePower-wrapped lawsPublic disempowermentpublic exploitationPublic fearPublic oppressionRights erosionShadow governanceShadow justiceShadows of powerSham democracySilenced dissentSilent massesSkewed justiceSocial suffocationStaged decision-makingState controlState dominanceState overreachState secrecyState Within a StateState-engineered silenceStructural InjusticeSymbolic amendmentsSymbolic democracySystemic corruptionUnchecked authorityUnquestioned authorityWeak rule of law
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
A-poem-that-remained-the-basis-for-misunderstanding-about-the-Black-Death-for-seven-hundred-years
Previous

ایک نظم، جو سات سو برس تک ’بلیک ڈیتھ‘ کے بارے میں غلط فہمی کی بنیاد بنی رہی!

Report-of-the-4th-Asian-Environment-and-Human-Rights-Defender-Forum-Sindh-Indigenous-Rights-Alliance-in-Thailand
Next

تھائی لینڈ میں چوتھے ایشیائی ماحولیاتی و انسانی حقوق محافظ فورم میں سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائنس کی نمائندگی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme