سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط68)
1922ء میں ’انڈین آرکیالوجی سروے‘ کے ماہر سر جان مارشل نے موئن جو دڑو کی باقیات دریافت کیں۔مُردوں کا یہ ٹیلہ اور ماضی کا اجڑا شہر اب یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج میں شامل ہے۔ اس کی دریافت کو 100 برس مکمل ہو چکے ہیں اور اب تک موجودہ سائیٹ کے ساڑھے پانچ (550)…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط46)
ہم کابلی دروازے سے قلعے میں داخل ہو کر اصطبل کے قریب سے گزر کر قلعے کے مشرقی حصے کی جانب ایک وسیع صحن میں پہنچے ہیں۔ ہمارے سامنے دو ایس ایس جی کمانڈوز گارڈ پوسٹ پر جدید اسلحہ سے لیس چاق و چوبند کھڑے ہیں۔ یہاں سے ارد گرد پر نظر رکھی جاتی ہے۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط26)
بہار کا موسم ہے اور اس کے رنگ درختوں اور ماحول پر بھی بکھرے ہیں۔ یہ پھل چننے کے دن ہیں۔ میں آبشار کے قریب جا بیٹھا ہوں۔ بہتے پانی کی جھاگ سے اٹھنے والے پانی کے قطرے میرے چہرے کو بھگو رہے ہیں۔ آبشار کا پانی نیچے تالاب کی صورت جمع ہو کر موجیں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط23)
سندھو بولتے چلا جا رہا ہے؛ ”اولڈنگ سے یہاں تک دریائے شیوک، شگر، کئی ندی، نالے اور چشمے مجھ میں مل کر اپنا وجود کھو چکے ہیں۔ آگے بھی دیکھنا میں کن کن اور کیسے کیسے ندی نالوں کو نگلتا ہوں۔ میرا وجود کافی بھرپور ہو چکا ہے۔ اب میں اپنا غصہ نکالنے اور سیلاب…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط22)
ہم اسکردو پہنچے ہیں۔ اس کی اہمیت کے ٹو چوٹی کو سر کرنے کی خواہش لئے دنیا بھر سے آنے والے کوہ پیماؤں یا دلکش جنت نظیر شنگریلا جھیل کی بدولت ہے۔ اسے تبت خورد بھی کہتے ہیں۔ پہاڑوں کے بیچ پیالہ نما جگہ، ماضی کی یہ اہم بستی بلتستان کا صدر مقام اور آج…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 15)
صبح سے اب تک کے سفر نے مجھے بھی تھکا دیا ہے۔ میں آرام کی غرض سے سندھو کنارے بنے ’ہمالیہ ان‘ چلا آیا ہوں۔ کچھ آرام کے بعد باہر آیا تو چندا ماموں پہاڑوں کی اوٹ سے افق پر نمودار ہوتے بلندی کی جانب گامزن ہیں۔ چاندنی نے ماحول کو تاباں اور خوشگوار کر…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 13)
”لداخ کبھی اس سلطنت کا اہم قصبہ تھا، جہاں بدھ مت پروان چڑھا۔ یہ اشوک اعظم کا دور اور 240 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ موریہ خاندان کا نامور چشم و چراغ اشوک اعظم اس سلطنت کے بانی چندر گپت موریہ کا پوتا تھا۔ کالنگا (موجودہ آڑیسہ) کی لڑائی میں ہونے والی خون ریزی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 8)
”میرے دوست؛ قدیم دور میں میرے اس بالائی خطے میں پل (برج) نہ تھے۔ مسافر، مقامی لوگ اور جانور تیر کر یا پیدل ہی مجھے عبور کرتے تھے۔ پھسلتے پتھروں اور تند و تیز لہروں میں مجھے پار کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ خچر، یاک اور ٹٹو طاقت ور تیراک ہیں۔ آدمی ان کی…